افغان طالبان سے وابستہ کمانڈر عبدالحمید خراسانی نے ایک نجی ٹی وی انٹرویو میں دعویٰ کیا ہے کہ ان کے پاس خودکش حملہ آوروں کا ایک ایسا گروہ موجود ہے جو بقول ان کے “غیر مسلم دنیا” کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ان کا یہ بیان افغانستان کے نجی نشریاتی ادارے طلوع نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں سامنے آیا، جس کے بعد خطے کے سیکیورٹی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
بیان میں کیا کہا گیا؟میڈیا رپورٹس کے مطابق خراسانی نے کہا کہ ان کے پاس ایسے افراد موجود ہیں جو ضرورت پڑنے پر کارروائی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان کے اندر بھی ایسے عناصر موجود ہیں جو حملوں کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
انہوں نے اشارہ کالعدم تنظیموں بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی جانب کیا، تاہم انہوں نے براہ راست کسی کارروائی کی تفصیل بیان نہیں کی۔
سرکاری ردعمل کا انتظارہےخراسانی کے بیان پر تاحال متعلقہ حکام کی جانب سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ تاہم سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے بیانات کو محض سیاسی بیان بازی کے بجائے خطے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔
تجزیہ کاروں کےمطابق اس قسم کےدعوےسفارتی کشیدگی کو بڑھاسکتےہیں۔سرحدی سیکیورٹی اور انسداد دہشتگردی اقدامات مزید سخت ہوسکتے ہیں۔پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں پہلے سے موجود تناؤ مزید گہرا ہو سکتا ہے۔
علاقائی تناظرمیں یہ بیان ایسے وقت سامنےآیاہےجب پاک افغان سرحد پر کشیدگی کے مختلف واقعات رپورٹ ہو رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ غیر ذمہ دارانہ یا اشتعال انگیز بیانات نہ صرف داخلی سیکیورٹی بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
عبدالحمید خراسانی کا بیان خطے میں جاری کشیدگی کے پس منظر میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اگرچہ اس کی عملی نوعیت اور سنجیدگی کا اندازہ لگانا قبل از وقت ہے، تاہم سیکیورٹی حلقے صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
