امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ نے پاک افغان کشیدگی کے تناظر میں ایک اہم بیان دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ امریکا اس معاملے میں براہِ راست مداخلت نہیں کرے گا، کیونکہ ان کے بقول پاکستان اس صورتحال کو انتہائی شاندار اندازمیں سنبھال رہا ہے۔
وائٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ سے سوال کیا گیا کہ کیا امریکا پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری کشیدگی یا ممکنہ جنگی صورتحال میں کردار ادا کرے گا؟ اس پر انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا، “میں مداخلت کر سکتا تھا، لیکن آپ جانتے ہیں کہ میرے پاکستان کے ساتھ بہت اچھے تعلقات ہیں۔ میرا خیال ہے کہ پاکستان بہت ہی شاندار طریقے سے آگے بڑھ رہا ہے۔ پاکستان افغانستان کے ساتھ اچھا کر رہا ہے، اس لیے میں مداخلت نہیں کروں گا۔
صدر ٹرمپ نے پاکستان کی قیادت کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے پاس “عظیم وزیراعظم اور جنرل” موجود ہیں اور وہ ان دونوں شخصیات کی بے حد عزت کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مضبوط اور باوقار قیادت ہی کسی بھی مشکل صورتحال سے نکلنے کی اصل طاقت ہوتی ہے، اور پاکستان اس وقت اسی قیادت کے ذریعے آگے بڑھ رہا ہے۔
ٹرمپ کے اس بیان کو سفارتی حلقوں میں غیر معمولی اہمیت دی جا رہی ہے، کیونکہ حالیہ دنوں میں پاک افغان سرحدی صورتحال اور دہشتگردی کے واقعات کے باعث خطے میں کشیدگی بڑھی ہے۔ ایسے میں امریکی صدر کا غیر جانبدارانہ رویہ اختیار کرنا اور پاکستان کی تعریف کرنا عالمی سفارتی منظرنامے میں ایک اہم اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔
اسی گفتگو کے دوران صدر ٹرمپ نے ایران کے جوہری پروگرام پر بھی اظہارِ خیال کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران کو ایٹمی ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ “میں ایران سے خوش نہیں ہوں، لیکن جمعے تک مزید مذاکرات متوقع ہیں۔ میں ایران کے ساتھ ڈیل بنانا چاہتا ہوں،
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ وہ ایران کے خلاف طاقت کا استعمال نہیں کرنا چاہتے، تاہم انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ بعض اوقات حالات ایسے ہو جاتے ہیں جہاں طاقت کا استعمال ناگزیر ہو جاتا ہے۔ ان کے مطابق امریکا کی ترجیح سفارتکاری اور مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل نکالنا ہے، مگر قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ٹرمپ کا بیان ایک جانب پاکستان کے لیے سفارتی تقویت کا باعث بن سکتا ہے، تو دوسری جانب ایران کے معاملے پر سخت لہجہ خطے میں نئی بحث کو جنم دے سکتا ہے۔ یوں وائٹ ہاؤس سے آنے والا یہ بیان نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ مشرقِ وسطیٰ کی سیاست پر بھی اثرانداز ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے
ٹ
