پاکستان کے سیاسی منظرنامے میں ایک اہم لمحہ اس وقت سامنے آیا جب صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے قومی سلامتی، علاقائی صورتحال، جمہوری تسلسل اور آئینی بالادستی کے حوالے سے تفصیلی اظہارِ خیال کیا۔ اپنے خطاب میں انہوں نے واضح الفاظ میں اعلان کیا کہ پاکستان اپنی سرزمین یا کسی ہمسایہ ملک کی زمین کو اپنے خلاف استعمال ہونے کی اجازت نہیں دے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کو غیر مستحکم کرنے کی ہر کوشش کا مؤثر اور بروقت جواب دیا جائے گا۔
صدر نے اپنی گفتگو کا آغاز خطے میں حالیہ پیش رفت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کیا اور ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت پر تعزیت پیش کی۔ انہوں نے ایران پر ہونے والے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اصولی طور پر کسی بھی خودمختار ریاست کے خلاف جارحیت کو قبول نہیں کرتا۔ ان کے مطابق خطے میں پائیدار امن کے لیے ضروری ہے کہ بین الاقوامی قوانین اور ریاستی خودمختاری کا احترام کیا جائے۔
اپنے خطاب کے دوران صدر نے اس بات کی یاد دہانی بھی کرائی کہ وہ دو مرتبہ منتخب صدر کی حیثیت سے پارلیمنٹ سے یہ اپنا نواں خطاب کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ سے ہر خطاب محض رسمی کارروائی نہیں بلکہ جمہوری نظام کے تسلسل اور عوامی نمائندوں کی ذمہ داریوں کی تجدید کا موقع ہوتا ہے۔ ان کے بقول اقوام کا امتحان صرف بحرانی لمحات میں نہیں بلکہ اہم تاریخی موڑ پر بھی ہوتا ہے، اور نئے پارلیمانی سال کے آغاز پر ضروری ہے کہ ہم اجتماعی عزم کے ساتھ آگے بڑھیں۔
انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کی اولین ترجیحات میں قومی خودمختاری کا تحفظ، آئین کی بالادستی اور معاشی استحکام شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ترقی کا عمل صرف اقتصادی اعداد و شمار تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس کے ثمرات عام شہری تک پہنچنے چاہییں۔ امن، خوشحالی اور استحکام ایک دوسرے سے جڑے ہوئے عناصر ہیں، اور ان کے بغیر کوئی ریاست پائیدار ترقی حاصل نہیں کر سکتی۔
صدر نے قومی تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آج ہم ان مضبوط بنیادوں پر کھڑے ہیں جو ہمارے بانیانِ قوم نے رکھی تھیں۔ قائداعظم محمد علی جناح نے ایک ایسی جمہوری ریاست کا خواب دیکھا تھا جہاں قانون کی حکمرانی اور آئینی اصولوں کی پاسداری ہو۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے قوم کو متفقہ آئین فراہم کیا جو آج بھی ریاستی ڈھانچے کی اساس ہے، جبکہ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے جمہوریت کے لیے بے مثال قربانیاں دیں اور سیاسی عمل کو نئی توانائی بخشی۔ صدر نے یاد دلایا کہ اپنے سابقہ دورِ صدارت میں انہوں نے پارلیمانی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے اپنے اختیارات پارلیمنٹ کو منتقل کیے اور آئین کی اصل روح کو بحال کیا۔
ملکی سلامتی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے صدر نے کہا کہ گزشتہ دس ماہ قوم کے لیے آزمائش سے بھرپور رہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بھارت کی جانب سے کی گئی جارحیت کا پاکستانی افواج نے بھرپور اور پیشہ ورانہ انداز میں جواب دیا، جس کے نتیجے میں ایک مشکل صورتحال کو تزویراتی کامیابی میں تبدیل کیا گیا۔ ان کے مطابق جب بھی پاکستان کی خودمختاری کو چیلنج کیا گیا، قوم اور قیادت نے متحد ہو کر عزم کا مظاہرہ کیا۔
انہوں نے مغربی سرحد کی صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ 26 فروری کی رات افغان سرحد سے حملوں کی کوشش کی گئی، تاہم سکیورٹی فورسز نے فوری اور فیصلہ کن کارروائی کرتے ہوئے واضح پیغام دیا کہ کسی بھی قسم کی دراندازی برداشت نہیں کی جائے گی۔ صدر کا کہنا تھا کہ سیاسی قیادت کا اتحاد اور عوام کی ثابت قدمی اس کامیابی کا اہم عنصر رہے۔ انہوں نے افغان طالبان حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ بعض دہشت گرد گروہوں کو پناہ فراہم کر رہی ہے، تاہم ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا کہ پاکستان نے کبھی مذاکرات کے دروازے بند نہیں کیے۔
صدر نے اس امر پر زور دیا کہ افواجِ پاکستان کی قربانیاں صرف اعداد و شمار میں بیان نہیں کی جا سکتیں۔ ان کے مطابق میڈیا پر دکھائی دینے والی کامیاب کارروائیوں کے پیچھے طویل تربیت، مسلسل محنت اور اہلکاروں کی قربانیاں شامل ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ان جوانوں کے خون، پسینے اور آنسوؤں کو بھی یاد رکھنا چاہیے جو وطن کی حفاظت کے لیے پیش کیے جاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک ذمہ دار ریاست ہے جو بین الاقوامی قوانین کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنا دفاع کرنا جانتی ہے۔ ان کے مطابق آئین کا آرٹیکل 51 ریاست کو اپنی سلامتی کے تحفظ کا حق دیتا ہے، اور اگر کسی بھی سمت سے امن کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی گئی تو مناسب جواب دیا جائے گا۔ تاہم انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان کا طرزِ عمل ہمیشہ تحمل، اعتماد اور مقصد کی وضاحت پر مبنی رہا ہے۔
صدر نے یہ بھی کہا کہ 2025 کے دوران بعض اہداف حاصل کرنے کے بعد پاکستان نے بردباری کا مظاہرہ کیا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ملک تصادم کی بجائے ذمہ دارانہ رویہ اپنانا چاہتا ہے۔ ان کے مطابق طاقت کا استعمال آخری راستہ ہونا چاہیے، جبکہ سفارتکاری اور مکالمہ ہمیشہ ترجیحی آپشن رہنا چاہیے۔
خطاب کے اختتام پر صدر آصف علی زرداری نے پارلیمنٹ اور قوم کو متحد رہنے کی تلقین کی۔ انہوں نے کہا کہ داخلی استحکام ہی خارجی خطرات کا مقابلہ کرنے کی اصل قوت ہے۔ آئین کی پاسداری، جمہوری اداروں کی مضبوطی اور اقتصادی اصلاحات وہ ستون ہیں جن پر پاکستان کا مستقبل استوار ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ملک کو غیر مستحکم کرنے کی ہر کوشش کو ناکام بنایا جائے گا، اور پاکستان اپنی سرحدوں، خودمختاری اور عوام کے تحفظ کے لیے ہر ضروری قدم اٹھائے گا۔
یوں صدر کا خطاب داخلی سیاست، علاقائی کشیدگی، جمہوری تسلسل اور قومی سلامتی کے موضوعات کا جامع احاطہ کرتا نظر آیا، جس میں ایک طرف تاریخی حوالہ جات تھے تو دوسری جانب موجودہ چیلنجز کا تفصیلی تجزیہ بھی شامل تھا۔ مجموعی طور پر انہوں نے اتحاد، آئینی بالادستی اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل کو پاکستان کی آئندہ حکمتِ عملی کا مرکزی نکتہ قرار دیا۔
