کراچی: امریکی قونصلیٹ کے باہر ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای پر امریکی حملے کے خلاف احتجاجی مظاہرے کے دوران صورتحال نہایت کشیدہ ہو گئی۔ دو امریکی حکام نے خبر رساں ایجنسی کو بتایا ہے کہ امریکی میرنیز نے مظاہرین پر فائرنگ کی، تاہم یہ واضح نہیں کہ کسی کو گولی لگی یا ہلاکت واقع ہوئی۔ مزید یہ بھی معلوم نہیں کہ قونصلیٹ پر موجود دیگر سکیورٹی اہلکار، بشمول نجی سکیورٹی گارڈز اور مقامی پولیس، نے بھی فائرنگ میں حصہ لیا یا نہیں۔
پولیس حکام کے مطابق فائرنگ زیادہ تر قونصلیٹ کے احاطے کے اندر سے کی گئی۔ قونصلیٹ کے بیرونی حصے پر ڈیوٹی پر موجود اہلکار اور فوجی نے مظاہرین کو قابو میں رکھنے کے لیے قدم اٹھائے، جس کے نتیجے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا۔
خبر رساں ایجنسی کے مطابق، امریکی میرینز نے واقعے پر سوالات امریکی فوج کو بھیج دیے، جس کے بعد امریکی فوج نے معاملہ امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے سپرد کر دیا۔ اب تک محکمہ خارجہ کی جانب سے کسی بھی باضابطہ ردعمل کا اعلان نہیں ہوا، اور صورتحال پر عالمی میڈیا اور انسانی حقوق کے حلقوں کی نگاہیں مرکوز ہیں۔
یہ احتجاج ایران کے سپریم لیڈر پر امریکی حملے کے خلاف کیا گیا تھا۔ مظاہرین کی بڑی تعداد نے قونصلیٹ کے باہر جمع ہو کر شدید نعرے بازی کی، جس کے بعد پولیس اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ فائرنگ کے نتیجے میں 9 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ نہ صرف کراچی بلکہ پاکستان میں امریکی قونصلیٹ کی حفاظت کے طریقہ کار پر بھی سوالات اٹھاتا ہے۔ بین الاقوامی میڈیا نے واقعے کو حساس قرار دیا ہے کیونکہ یہ امریکہ اور ایران کے تعلقات میں بڑھتی کشیدگی کے دوران پیش آیا۔
حکام نے فی الحال فائرنگ کے اسباب اور ذمہ داروں کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ پاکستانی پولیس اور قونصلیٹ انتظامیہ مظاہرین کی حفاظت اور قونصلیٹ کی سیکیورٹی کے لیے اضافی اقدامات کر رہی ہے تاکہ آئندہ کے مظاہروں میں مزید نقصان سے بچا جا سکے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ اور پاکستان کے تعلقات میں یہ واقعہ حساسیت کا باعث بن سکتا ہے، اور عالمی برادری کی توجہ پاکستان میں شہری مظاہروں اور بین الاقوامی سفارتی مراکز کی حفاظت پر مرکوز ہو گئی ہے۔
