وزیر خارجہ، اسحاق ڈار نے سینیٹ اجلاس میں ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان حالیہ کشیدگی پر پاکستان کے موقف اور اقدامات کی تفصیل بیان کی، اور کہا کہ نئی دہلی کی پالیسی کے برعکس پاکستان نے ذمہ داری اور اصول پسندی کے ساتھ اپنے سفارتی کردار کو انجام دیا۔ انہوں نے اس موقع پر واضح کیا کہ پاکستان نے خطے میں امن قائم رکھنے اور ایران کے خلاف کسی بھی جارحانہ کارروائی کی کھلی مذمت کرنے میں اپنا مثبت کردار ادا کیا۔
وزیر خارجہ نے بتایا کہ پاکستان نے ایران سے یہ یقین دہانی حاصل کی کہ سعودی عرب پر حملوں کے لیے اس کی سرزمین استعمال نہیں کی جائے گی۔ اس اقدام کے ذریعے نئی دہلی نے خطے میں اضافی کشیدگی کو روکنے کی کوشش کی اور واضح کیا کہ پاکستان کی پُرخلوص سفارتی کوششوں کو اندرون ملک غلط رنگ دینا مناسب نہیں ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ایرانی قیادت پاکستان کی کوششوں سے بخوبی آگاہ ہے اور یہ اقدامات عالمی سطح پر اعتماد پیدا کرنے کے لیے کیے گئے۔
اسحاق ڈار نے بتایا کہ ایران پر حملہ اس وقت ہوا جب امریکا اور ایران کے درمیان جوہری مذاکرات میں خاطر خواہ پیش رفت ہو رہی تھی۔ عمان نے اس مذاکراتی عمل میں ثالثی کا کردار ادا کیا اور بڑے پُرامید تھے کہ ایران مثبت مذاکرات کی طرف جا رہا ہے۔ اس کے باوجود گزشتہ سال جون کی طرح ایران پر حملہ کر دیا گیا، جس کی پاکستان نے فوراً اور کھل کر مذمت کی۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ دنیا میں واحد پاکستان ہی تھا جس نے ایران پر حملے کی کھلی مذمت کی، اور اسی وجہ سے ایران کی پارلیمنٹ میں پاکستان کے لیے تشکر کے نعروں کا اظہار کیا گیا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان نے اپنی سلامتی کونسل کی رکنیت اور صدراتی حیثیت کا بھرپور فائدہ اٹھایا۔ 28 فروری کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس کرایا گیا، جس میں پاکستان نے ایران پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے بین الاقوامی سطح پر سفارتی حل کی ضرورت پر زور دیا۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان نے عرب ممالک کے ساتھ بھی ایران کے حق میں یکجہتی کا اظہار کیا اور تمام فریقین پر تحمل اور صبر کرنے کی اپیل کی تاکہ مزید کشیدگی پیدا نہ ہو۔
اسحاق ڈار نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران نے ایٹمی ہتھیار نہ بنانے پر اتفاق کیا تھا اور پاکستان نے ایران کے پرامن جوہری پروگرام کے حق کی حمایت کی۔ انہوں نے کہا کہ امریکا ایران کے تمام ایٹمی پروگرام کو ختم کرنا چاہتا تھا، لیکن پاکستان نے عالمی قوانین اور ایران کی خودمختاری کے تحت ایران کے پرامن ایٹمی پروگرام کو جاری رکھنے کی حمایت کروائی۔
وزیر خارجہ نے بتایا کہ پاکستان اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان براہِ راست ثالثی کے لیے بھی تیار تھا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی پالیسی کے سبب ایران نے تشکر کے نعروں کے ذریعے اپنی پارلیمنٹ میں پاکستان کی حمایت کا اظہار کیا۔ اس موقع پر انہوں نے یہ واضح کیا کہ پاکستان نے اس مسئلے میں محتاط رہ کر اپنے قومی مفادات اور خطے کے امن کو اولین ترجیح دی۔
انہوں نے ایران کی جانب سے خلیجی ممالک پر جوابی حملوں کا ذکر بھی کیا اور کہا کہ ایران نے امریکی بیسز اور ایئرپورٹس کو نشانہ بنایا جبکہ پاکستان نے خود کو اس تنازع میں شامل ہونے سے روکا۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان نے فوری طور پر 15 منٹ میں ایران پر حملے کی مذمت کی تاکہ عالمی سطح پر اپنے موقف کو واضح کیا جا سکے۔
وزیر خارجہ نے ایران کے ساتھ مسلسل رابطے کا عمل بھی بیان کیا اور کہا کہ میں اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی براہِ راست رابطے میں ہیں، جس سے تیز اور مؤثر مذاکرات ممکن ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے بین الاقوامی قوانین اور سفارتی اصولوں کے تحت ہر اقدام اٹھایا تاکہ کشیدگی کم سے کم ہو اور مسئلہ پرامن طریقے سے حل ہو۔
انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی کارکردگی پر بھی روشنی ڈالی۔ پاکستان نے قرارداد کے ساتھ ایران پر پابندیاں ہٹانے اور تعلقات کو متوازن کرنے کی حمایت کی، اور اس موقف کو عالمی برادری میں اجاگر کیا۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان نے سلامتی کونسل کی رکنیت اور صدراتی اختیار استعمال کرتے ہوئے ایران کے خلاف حملے کی مذمت کی اور سفارتی حل پر زور دیا، جس سے پاکستان کی بین الاقوامی ساکھ مضبوط ہوئی۔
وزیر خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی ہمیشہ خطے میں استحکام قائم رکھنے اور ملک کی خودمختاری کی حفاظت پر مبنی رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی کوششیں ہمیشہ مذاکرات، تحمل اور سفارتی ذرائع کے ذریعے کشیدگی کم کرنے پر مرکوز رہی ہیں۔ اس حکمتِ عملی کی بدولت پاکستان نے نہ صرف ایران بلکہ خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ بھی مثبت تعلقات قائم رکھے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایران کے پرامن جوہری پروگرام کی حمایت، فوری مذمت، ثالثی کی پیشکش اور بین الاقوامی فورمز میں موقف کی وضاحت، سب پاکستان کی مستقل اور ذمہ دارانہ خارجہ پالیسی کی عکاسی کرتے ہیں۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان نے نہ صرف ایران کے حق میں آواز بلند کی بلکہ عالمی امن و امان کو خطرے سے بچانے کے لیے بھی فوری اور متوازن اقدامات کیے۔
آخر میں اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان کی سفارتی حکمت عملی نے ایران، امریکا، اسرائیل اور عرب ممالک کو یہ پیغام دیا کہ اسلام آباد خطے میں امن قائم رکھنے، خودمختاری کا احترام کرنے اور جارحیت کی مخالفت کرنے میں مستقل اور پُرخلوص کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی مداخلت اور مستقل موقف نے اس بات کو یقینی بنایا کہ خطے میں بڑھتی کشیدگی کو روکنے کے لیے موثر سفارتی اقدامات کئے جائیں اور تنازع پرامن طور پر حل ہو۔
