نائب وزیراعظم اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے سینیٹ اجلاس میں کہا ہے کہ پاکستان کسی تصادم کے حق میں نہیں اور دل و جان سے ایران کے ساتھ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ کیا ہوا ہے لیکن ایران کو بھی مدنظر رکھا گیا۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ مذاکرات میں مثبت پیش رفت کے باوجود ایران پر حملہ کیا گیا، تاہم پاکستان نے ہر فورم پر تہران کے حق میں آواز بلند کی۔ انہوں نے فیلڈ مارشل اور دیگر حکام کی کوششوں کو سراہا اور کہا کہ رابطے اب بھی جاری ہیں تاکہ کشیدگی کم کی جا سکے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک کے اندر معاملے کو غلط رنگ دینا درست نہیں، اور اپوزیشن لیڈر اور پارلیمانی رہنماؤں کو کل ان کیمرہ بریفنگ دی جائے گی۔ بریفنگ کے لیے کوآرڈینیشن کی ذمہ داری رانا ثنااللہ کو دی گئی ہے۔
امریکا اور اسرائیل کی کارروائیوں کے بعد جنگ پورے مشرق وسطیٰ میں پھیل چکی ہے،ایرانی پاسداران انقلاب نے بحرین میں امریکی اڈے کو نشانہ بنایا، جہاں 20 ڈرونز اور 3 میزائل داغے گئے۔امریکی سینٹرل کمانڈ نے پاسداران انقلاب کے کنٹرول اینڈ کمانڈر سنٹر کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا۔ایرانی میزائل لانچنگ سائٹس اور دیگر اہداف بھی نشانہ بنائے گئے۔سعودی عرب میں امریکی سفارتخانے پر ڈرون حملہ ہوا۔
اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان بھی جھڑپیں جاری ہیں، اسرائیلی طیاروں نے بیروت پر شدید بمباری کی جبکہ لبنان کے 59 قصبوں میں انخلا کی وارننگ جاری کی گئی۔ حزب اللہ نے اسرائیلی ایئر بیس پر ڈرون حملے کیے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق نائب وزیراعظم کا بیان پاکستان کی مؤقف کی وضاحت اور خطے میں ثالثی کے لیے کیے جانے والے اقدامات کا عکاس ہے۔ پاکستان نے واضح کیا کہ وہ کشیدگی میں براہِ راست شامل نہیں ہوگا لیکن ہر ممکن سفارتی کوشش کے ذریعے ایران اور خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات کو متوازن رکھنے کی کوشش کرے گا۔
