پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے افغانستان سے متعلق حالیہ صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ماضی کے تجربات کو سامنے رکھتے ہوئے کابل کی موجودہ حکومت پر مزید اعتماد کرنا پاکستان کے لیے ایک بڑا خطرہ ثابت ہوسکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ہمیشہ خطے میں امن اور استحکام کے لیے سنجیدہ کوششیں کیں اور کئی مواقع پر افغانستان کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل کی کوشش کی، تاہم حالات نے بار بار یہ ظاہر کیا کہ افغان حکومت کے رویّے پر مکمل بھروسہ کرنا مشکل ہے۔
انہوں نے ایک خصوصی گفتگو میں، جو انہوں نے جیو نیوز کو دی، کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ یہ کوشش کی کہ اختلافات کو طاقت کے بجائے بات چیت اور سفارتی ذرائع سے حل کیا جائے۔ ان کے مطابق پاکستان کی جانب سے متعدد بار یہ پیغام دیا گیا کہ دونوں ممالک کو باہمی احترام اور تعاون کے ساتھ آگے بڑھنا چاہیے تاکہ سرحدی علاقوں میں امن قائم رہ سکے اور دونوں ملکوں کے عوام کو فائدہ پہنچے۔ مگر ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کی موجودہ حکومت کی پالیسیوں اور طرزِ عمل نے پاکستان کے اعتماد کو کمزور کیا ہے۔
وزیرِ دفاع کے مطابق پاکستان نے گزشتہ برسوں میں مختلف سطحوں پر افغان حکام کے ساتھ رابطے کیے اور دہشت گردی کے مسئلے پر مشترکہ حکمت عملی بنانے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی خواہش ہمیشہ یہی رہی ہے کہ سرحد کے دونوں جانب امن قائم ہو اور کوئی بھی گروہ یا تنظیم ایسی سرگرمیوں میں ملوث نہ ہو جو دونوں ممالک کے لیے نقصان دہ ہوں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے ایسے شواہد بار بار سامنے آئے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف سرگرمیوں کے لیے استعمال ہوتی رہی ہے۔
خواجہ آصف نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کو اس حقیقت کا ادراک ہے کہ دہشت گردی صرف ایک ملک کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے خطے کے لیے خطرہ ہے۔ اسی لیے پاکستان نے بین الاقوامی سطح پر بھی اس مسئلے کے حل کے لیے آواز اٹھائی اور ہمیشہ اس بات پر زور دیا کہ افغانستان کی سرزمین کسی بھی پڑوسی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہیے۔ ان کے مطابق اگر خطے میں پائیدار امن قائم کرنا ہے تو اس کے لیے ضروری ہے کہ تمام ممالک اپنی ذمہ داریوں کو سنجیدگی سے ادا کریں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے اندر ہونے والی کئی دہشت گرد کارروائیوں کے تانے بانے افغانستان سے ملتے ہیں۔ وزیرِ دفاع کے مطابق کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی سرگرمیوں کے حوالے سے بھی یہی تاثر پایا جاتا ہے کہ اس تنظیم کو افغانستان میں پناہ اور سہولتیں حاصل رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر افغانستان کی سرزمین سے اس قسم کی پشت پناہی نہ ملتی تو یہ تنظیمیں اتنی دیر تک فعال نہ رہ سکتیں۔
وزیرِ دفاع کے مطابق پاکستان نے بارہا افغان حکام کو اس حوالے سے آگاہ کیا کہ سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی دونوں ممالک کے تعلقات کو متاثر کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے یہ توقع کی جاتی رہی ہے کہ افغان حکومت ایسے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کرے گی جو پاکستان کے امن و استحکام کے لیے خطرہ بن رہے ہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ زمینی حقائق اکثر اس کے برعکس نظر آئے ہیں۔
خواجہ آصف نے کہا کہ موجودہ حالات میں پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی قومی سلامتی کو مدِنظر رکھتے ہوئے فیصلے کرے۔ ان کے مطابق اگر کسی بھی ملک کے ساتھ تعلقات میں اعتماد کی فضا نہ ہو تو پھر محتاط رویّہ اختیار کرنا ناگزیر ہوجاتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ افغانستان کے ساتھ تعلقات میں احتیاط اسی تناظر میں ضروری ہے تاکہ پاکستان کے مفادات کو نقصان نہ پہنچے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان ہمیشہ خطے میں امن اور استحکام کا خواہاں رہا ہے اور مستقبل میں بھی یہی پالیسی جاری رہے گی۔ ان کے مطابق پاکستان کسی بھی ایسے اقدام کی حمایت نہیں کرے گا جو خطے میں کشیدگی کو بڑھائے۔ بلکہ پاکستان کی کوشش یہی ہوگی کہ مسائل کو بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے حل کیا جائے۔
وزیرِ دفاع نے عالمی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ وقت میں دنیا کے مختلف خطوں میں کشیدگی کے باعث توانائی کے شعبے پر بھی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ ان کے مطابق تیل اور توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ صرف ایک خطے تک محدود نہیں بلکہ پوری دنیا کی معیشت کو متاثر کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی منڈی میں ہونے والی تبدیلیوں کے اثرات پاکستان سمیت کئی ممالک پر پڑ رہے ہیں۔
خواجہ آصف نے ایران کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایران پاکستان کا ایک قریبی اور برادر ملک ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ایران کے ساتھ تاریخی، مذہبی اور ثقافتی تعلقات ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان تعاون کی ایک طویل روایت موجود ہے۔ ان کے مطابق پاکستان دیگر اسلامی ممالک کے ساتھ بھی بھائی چارے اور باہمی احترام کے اصول پر تعلقات رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ خطے میں جاری کشیدگی کے اثرات کئی ممالک پر پڑ سکتے ہیں، اسی لیے ضروری ہے کہ حالات کو مزید بگڑنے سے بچایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ دعا کی جانی چاہیے کہ موجودہ کشیدگی عارضی ثابت ہو اور جلد ہی ایسا حل نکل آئے جس سے خطے میں امن قائم ہوسکے۔
وزیرِ دفاع کے مطابق پاکستان کی اولین ترجیح اپنے عوام کا تحفظ اور ملک کا استحکام ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس بات کو یقینی بنانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کرے گی کہ پاکستان کسی بھی خطرے سے محفوظ رہے۔ ان کے مطابق اگر خطے کے ممالک باہمی احترام اور ذمہ داری کے ساتھ آگے بڑھیں تو نہ صرف دہشت گردی جیسے مسائل کا حل ممکن ہے بلکہ پورے خطے میں ترقی اور خوشحالی کے نئے مواقع بھی پیدا ہوسکتے ہیں۔
آخر میں انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ خطے کے تمام ممالک عقل و دانش سے کام لیتے ہوئے ایسے فیصلے کریں گے جو امن، استحکام اور تعاون کو فروغ دیں۔ ان کے مطابق جنگ اور کشیدگی کسی مسئلے کا مستقل حل نہیں ہوتیں، بلکہ اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے اور ایسا ماحول پیدا کیا جائے جس میں تمام ممالک باہمی اعتماد کے ساتھ آگے بڑھ سکیں۔
