خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے بعد عوام کو ریلیف دینے کے لیے بڑا اعلان کرتے ہوئے صوبے بھر کے موٹرسائیکل سواروں کو سبسڈی دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
پشاور میں معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان اور مشیر خزانہ مزمل اسلم کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ وفاقی حکومت نے پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے ذریعے عوام پر “پیٹرول کا ایٹم بم” گرا دیا ہے، جسے خیبرپختونخوا حکومت مسترد کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ وفاق کو چاہیے کہ ایسے فیصلے کرنے سے پہلے صوبوں کو اعتماد میں لے اور اپنی شاہ خرچیاں کم کرے، نہ کہ عوام پر مزید مالی بوجھ ڈالے۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی حالات کا جواز بنا کر پیٹرولیم مصنوعات مہنگی کرنا عوام کے لیے شدید مشکلات پیدا کر رہا ہے۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے اعلان کیا کہ صوبے میں رجسٹرڈ موٹرسائیکل مالکان کو فی موٹرسائیکل 2200 روپے سبسڈی دی جائے گی تاکہ بڑھتی ہوئی پیٹرول کی قیمتوں کے اثرات کم کیے جا سکیں۔ ان کے مطابق اس وقت خیبرپختونخوا میں تقریباً 14 سے 16 لاکھ موٹرسائیکلیں رجسٹرڈ ہیں اور سبسڈی انہی رجسٹرڈ صارفین کو فراہم کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت اپنے عوام کے ساتھ کھڑی ہے اور مشکل وقت میں انہیں تنہا نہیں چھوڑے گی۔ وزیراعلیٰ نے مزید بتایا کہ بی آر ٹی کے کرایوں میں بھی اضافہ نہیں کیا جا رہا اور اس کا اضافی مالی بوجھ حکومت خود برداشت کرے گی تاکہ عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
پریس کانفرنس کے دوران وزیراعلیٰ نے وفاقی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت نے اخراجات کم کرنے کے لیے نئی سرکاری گاڑیوں کی خریداری اور بین الاقوامی دوروں پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کفایت شعاری کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت کا سرکاری ہیلی کاپٹر بھی حادثے کا شکار ہو چکا ہے لیکن اس کے باوجود نیا ہیلی کاپٹر خریدنے کا فیصلہ نہیں کیا گیا، جبکہ دوسری جانب وفاقی حکومت پرائیویٹ جیٹس اور شاہانہ اخراجات پر وسائل خرچ کر رہی ہے۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ عوام پر فی لیٹر پیٹرول میں 55 روپے اضافے کا بوجھ ڈالنا انتہائی افسوسناک ہے اور صوبائی حکومت اپنی محدود وسائل کے باوجود عوام کو ریلیف فراہم کرنے کی کوشش کر رہی ہے
