اسلام آباد:پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان نیوی نے “آپریشن محافظ البحر” کا آغاز کر دیا ہے جس کا مقصد قومی جہاز رانی، تجارتی سرگرمیوں اور اہم سمندری راستوں کو درپیش خطرات سے نمٹنا اور ان کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔
آئی ایس پی آر کی جانب سے پیر کو جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ اہم فیصلہ خطے میں تیزی سے بدلتی ہوئی میری ٹائم سکیورٹی صورتحال اور اہم عالمی سمندری گزرگاہوں میں ممکنہ رکاوٹوں کے پیش نظر کیا گیا ہے۔
بیان کے مطابق پاک بحریہ اس وقت سمندر میں تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور ان کی محفوظ اور بلاتعطل آمد و رفت کو یقینی بنانے کیلئے فعال نگرانی اور کنٹرول کا نظام نافذ کیا گیا ہے۔
حالیہ دنوں میں مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی سمندری تجارت کو شدید متاثر کیا ہے۔ایران پر امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے حملوں کے بعد ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے اسرائیل اور بعض خلیجی ممالک کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں اہم عالمی گزرگاہ آبنائے ہرمز کئی دنوں سے بند ہے۔
آبنائے ہرمز کو دنیا کی سب سے اہم تیل بردار گزرگاہ سمجھا جاتا ہے، جہاں سے روزانہ لاکھوں بیرل تیل اور گیس عالمی منڈیوں تک پہنچتی ہے۔ اس صورتحال کے باعث نہ صرف عالمی توانائی مارکیٹ میں بے چینی پیدا ہوئی ہے بلکہ خطے میں بحری نقل و حمل بھی متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان کی تقریباً 90 فیصد بین الاقوامی تجارت سمندری راستوں کے ذریعے ہوتی ہے، اس لیے ان راستوں کا محفوظ رہنا ملکی معیشت اور توانائی کی فراہمی کیلئے انتہائی اہم ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ آپریشن محافظ البحر کا بنیادی مقصدقومی جہاز رانی کی حفاظت،توانائی کی سپلائی چین کا تسلسل،تجارتی جہازوں کی محفوظ نقل و حرکت اور علاقائی سمندری سکیورٹی کو یقینی بنانا ہے۔
پاک بحریہ کی عملی کارروائیوں میں آئی ایس پی آر کے مطابق اس آپریشن کے تحت پاک بحریہ کے اسکواڈرن اور جنگی جہاز سمندر میں سکیورٹی اور اسکواٹ آپریشنز انجام دے رہے ہیں۔یہ کارروائیاں پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن (PNSC) کے ساتھ قریبی رابطے اور ہم آہنگی کے تحت جاری ہیں۔
بیان میں مزید بتایا گیا کہ اس وقت پاک بحریہ کے جہاز دو تجارتی جہازوں کو حفاظتی حصار فراہم کررہے ہیں تاکہ وہ بحفاظت اپنی منزل تک پہنچ سکیں۔آئی ایس پی آر کے مطابق پاک بحریہ ابھرتے ہوئے سمندری سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے مکمل طور پر تیار ہے اور قومی مفادات کے تحفظ کیلئے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔بیان میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ پاکستان نیوی قومی جہاز رانی کے تحفظ، سمندری تجارت کے تسلسل اور خطے میں امن و استحکام کیلئے اپنی ذمہ داریاں بھرپور طریقے سے ادا کرتی رہے گی۔
