اسلام آباد: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے مطالبہ کیا ہے کہ سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کو فوری طور پر اسلام آباد کے شفاء انٹرنیشنل اسپتال منتقل کیا جائے تاکہ ان کا علاج فیملی اور ذاتی معالجین کی نگرانی میں کیا جا سکے۔
جمعے کے روز کے پی ہاؤس اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ آج کی پریس کانفرنس کا واحد ایجنڈا عمران خان کی صحت کا معاملہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کے علاج کے لیے آئینی، قانونی اور جمہوری تمام راستے اختیار کیے جا چکے ہیں، تاہم اس کے باوجود انہیں مناسب طبی سہولت فراہم نہیں کی جا رہی۔
محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ عمران خان کوئی معمولی شخصیت نہیں بلکہ وہ ملک کے سابق وزیر اعظم اور سب سے بڑی سیاسی جماعت کے تاحیات چیئرمین ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کے علاج میں رکاوٹیں ڈالنا ناقابل قبول ہے اور انہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسلامی دنیا کے دو عظیم لیڈر تھے، ایک کو شہید کر دیا گیا اور دوسرے کو جیل میں ڈال دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کو فیملی کی موجودگی اور ذاتی معالجین کی نگرانی میں علاج کی سہولت فراہم کی جانی چاہیے۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ اس وقت پورے پاکستان کی نظریں عدلیہ پر ہیں اور عدالتوں کو اس معاملے کی حساسیت کو سمجھنا چاہیے کیونکہ عمران خان کے علاج سے متعلق مطالبات جائز ہیں۔
انہوں نے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ملک پر مسلط حکمرانوں کے پاس نہ کوئی واضح خارجہ پالیسی ہے اور نہ ہی داخلی حکمت عملی۔ ان کے مطابق حکمرانوں کو یہ تک معلوم نہیں کہ جنگ کی صورتحال میں کیا اقدامات کرنے ہوتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت کی توجہ ملک کی ترقی یا معاشی استحکام کے بجائے عمران خان کی فیملی سے ملاقات نہ کرانے اور ان کا علاج نہ ہونے دینے پر مرکوز ہے۔
محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ اس وقت خیبرپختونخوا کا وزیر اعلیٰ ہی واحد ہے جو عوامی طاقت سے منتخب ہوا ہے مگر اسے نااہل قرار دینے کے لیے مختلف طریقے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق حکمرانوں کا اصل مقصد پی ٹی آئی قیادت کو نااہل قرار دلوانا ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ خدانخواستہ اگر عمران خان کو کچھ ہوا تو اس کی تمام تر ذمہ داری موجودہ حکومت اور اس کے ہینڈلرز پر عائد ہوگی۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے مزید کہا کہ عمران خان کی رہائی کے لیے “رہائی فورس” اور پوری قوم اپنا کردار ادا کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر اس مرتبہ کال دی گئی تو اسے کوئی روک نہیں سکے گا۔انہوں نے واضح کیا کہ ان کی جماعت کی منزل حقیقی آزادی ہے اور اس کے حصول تک جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ جو سٹریٹ موومنٹ جہاں پر روکی گئی تھی وہیں سے دوبارہ شروع کی جائے گی اور اس حوالے سے پارٹی قیادت کی سطح پر تیاری جاری ہے۔
