لاہور میں ہونے والے ایک اہم اجلاس میں وزیرِاعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت ملک کی مجموعی غذائی صورتحال، زرعی پیداوار اور بیرونِ ملک خوراک کی فراہمی کے امکانات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں اس امر پر خصوصی توجہ دی گئی کہ بدلتے ہوئے عالمی اور علاقائی حالات کے تناظر میں پاکستان اپنی زرعی صلاحیتوں سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے دوست خلیجی ممالک کی غذائی ضروریات پوری کرنے میں مؤثر کردار ادا کرسکتا ہے۔ و
زیرِاعظم نے متعلقہ اداروں کو ہدایت دی کہ خوراک کے ذخائر، پیداوار اور فراہمی کے نظام کو باقاعدہ نگرانی میں رکھا جائے تاکہ ملک کے اندر کسی قسم کی کمی یا عدم توازن پیدا نہ ہو اور ساتھ ہی بیرونِ ملک برآمدات کے مواقع سے بھی فائدہ اٹھایا جاسکے۔
اجلاس میں حکام کی جانب سے وزیرِاعظم کو ملک میں موجود اشیائے خورونوش کے ذخائر اور زرعی پیداوار کے بارے میں مفصل آگاہ کیا گیا۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ پاکستان اس وقت خوراک کے حوالے سے مستحکم حالت میں ہے اور ملک میں مختلف غذائی اشیا کا وافر ذخیرہ موجود ہے۔ حکام نے بتایا کہ گندم، چاول، سبزیاں، پھل، گوشت، مرغی کا گوشت، دودھ اور دودھ سے بنی اشیا کے علاوہ سمندری خوراک کی پیداوار بھی خاطر خواہ مقدار میں موجود ہے اور ان شعبوں میں بیرونی ممالک کو برآمدات بڑھانے کی بڑی صلاحیت موجود ہے۔
اجلاس کے دوران وزیرِاعظم نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کی اولین ترجیح ملک کے عوام کی غذائی ضروریات کو ہر صورت یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے ہدایت دی کہ خوراک کی طلب اور رسد کے نظام کو روزانہ کی بنیاد پر جانچا جائے تاکہ کسی بھی مرحلے پر قلت یا ذخیرہ اندوزی جیسے مسائل پیدا نہ ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ملکی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے اضافی پیداوار دستیاب ہو تو اسے بہتر منصوبہ بندی کے تحت بیرونِ ملک بھیجا جائے تاکہ ملک کی معیشت کو بھی فائدہ پہنچ سکے۔
وزیرِاعظم نے اس موقع پر کہا کہ عالمی سطح پر بعض علاقوں میں رسد کے نظام میں رکاوٹیں پیدا ہونے کی وجہ سے کئی ممالک کو خوراک کی فراہمی میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔ ایسے حالات میں پاکستان کے لیے یہ ایک اہم موقع ہے کہ وہ اپنی زرعی پیداوار کو بہتر انتظام کے ذریعے عالمی منڈیوں تک پہنچائے۔ انہوں نے خاص طور پر خلیجی ممالک کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ممالک پاکستان کے قریبی دوست اور شراکت دار ہیں اور وہاں بڑی تعداد میں پاکستانی مقیم ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ ان ممالک کی غذائی ضروریات پوری کرنے میں پاکستان بھرپور کردار ادا کرے۔
وزیرِاعظم میاں محمد شہباز شریف نے متعلقہ اداروں کو ہدایت دی کہ خلیجی ممالک کو اشیائے خورونوش کی فراہمی کے لیے ایک جامع اور منظم منصوبہ تیار کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ خوراک کی برآمد کے دوران معیار کو ہر صورت یقینی بنایا جائے کیونکہ اعلیٰ معیار ہی کسی بھی ملک کی ساکھ کو مضبوط بناتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر پاکستانی خوراکی مصنوعات بہترین معیار کے ساتھ بیرونی منڈیوں تک پہنچیں گی تو اس سے نہ صرف برآمدات میں اضافہ ہوگا بلکہ پاکستان کا مثبت تشخص بھی اجاگر ہوگا۔
اجلاس میں اس بات پر بھی غور کیا گیا کہ زرعی شعبے میں جدید طریقوں کو فروغ دے کر پیداوار میں مزید اضافہ کیا جاسکتا ہے۔ وزیرِاعظم نے ہدایت دی کہ کسانوں کو سہولتیں فراہم کی جائیں، انہیں جدید زرعی معلومات دی جائیں اور ایسے اقدامات کیے جائیں جن سے پیداوار میں بہتری آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور اگر اس شعبے کو مؤثر منصوبہ بندی کے ساتھ آگے بڑھایا جائے تو نہ صرف ملک کی غذائی ضروریات بآسانی پوری ہوسکتی ہیں بلکہ بیرونی منڈیوں میں بھی نمایاں مقام حاصل کیا جاسکتا ہے۔
وزیرِاعظم نے اجلاس کے دوران سرکاری بحری جہاز رانی کے ادارے کو بھی ہدایت دی کہ خلیجی ممالک تک خوراکی اشیا کی بروقت اور محفوظ ترسیل کے لیے ضروری انتظامات کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ سمندری راستے کے ذریعے اشیائے خورونوش کی ترسیل ایک اہم ذریعہ ہے اور اس شعبے کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت ہے تاکہ برآمدی عمل میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
اس کے علاوہ وزیرِاعظم نے یہ بھی ہدایت جاری کی کہ ایک خصوصی کمیٹی قائم کی جائے جو روزانہ کی بنیاد پر ملک میں خوراک کی صورتحال، ذخائر اور بیرونِ ملک فراہمی کے معاملات کا جائزہ لے۔ یہ کمیٹی اس بات کو یقینی بنائے گی کہ ملک میں خوراک کی دستیابی برقرار رہے اور برآمدات کے عمل میں بھی توازن قائم رکھا جائے۔ کمیٹی کی ذمہ داری ہوگی کہ وہ متعلقہ اداروں سے معلومات حاصل کرکے وزیرِاعظم کو باقاعدگی سے آگاہ کرتی رہے۔
وزیرِاعظم نے بیرونِ ملک تعینات پاکستانی سفیروں اور تجارتی امور سے وابستہ حکام کو بھی متحرک کردار ادا کرنے کی ہدایت دی۔ انہوں نے کہا کہ بیرونی ممالک میں موجود پاکستانی نمائندوں کو چاہیے کہ وہ وہاں کی منڈیوں کا جائزہ لیں، خوراک کی طلب کے بارے میں معلومات حاصل کریں اور پاکستانی مصنوعات کے لیے نئے مواقع تلاش کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی اور تجارتی سطح پر بھرپور کوششیں کی جائیں تو پاکستانی خوراکی اشیا کے لیے عالمی منڈیوں میں وسیع مواقع پیدا ہوسکتے ہیں۔
اجلاس میں شریک حکام نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ پاکستان کے پاس زرعی وسائل، محنتی کسان اور وسیع زمین موجود ہے جو ملک کو غذائی خودکفالت کے ساتھ ساتھ بیرونی ممالک کو خوراک فراہم کرنے کے قابل بناتے ہیں۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ وزیرِاعظم کی ہدایات کی روشنی میں ایک جامع حکمتِ عملی تیار کی جائے گی جس کے ذریعے نہ صرف ملک کے اندر خوراک کی دستیابی کو یقینی بنایا جائے گا بلکہ برآمدات کو بھی منظم انداز میں فروغ دیا جائے گا۔
اجلاس کے اختتام پر وزیرِاعظم میاں محمد شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کے پاس یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ خطے میں غذائی فراہمی کے حوالے سے ایک اہم کردار ادا کرے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت ایسی پالیسیوں پر عمل کرے گی جن سے زرعی شعبہ مضبوط ہو، کسان خوشحال ہوں اور پاکستان کی خوراکی مصنوعات عالمی منڈیوں میں نمایاں مقام حاصل کریں۔ ساتھ ہی انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دوست خلیجی ممالک کے ساتھ غذائی تعاون کو مزید مضبوط بنانا پاکستان کی خارجہ اور معاشی حکمتِ عملی کا اہم حصہ ہوگا، جس سے دونوں جانب فائدہ ہوگا اور باہمی تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔
