صوبہ پنجاب کے ضلع رحیم یار خان میں ایک نہایت افسوسناک اور دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا، جہاں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی امدادی رقم کی تقسیم کے دوران ایک نجی ادائیگی مرکز کی چھت اچانک گرنے سے متعدد خواتین جاں بحق اور درجنوں زخمی ہو گئیں۔ یہ حادثہ چک نمبر 125 کے قریب اس وقت پیش آیا جب 200 سے زائد خواتین امداد حاصل کرنے کے لیے ایک دکان کی چھت پر جمع تھیں۔ عینی شاہدین کے مطابق شدید رش اور عمارت کے کمزور ڈھانچے کے باعث چھت اچانک منہدم ہو گئی، جس کے نتیجے میں کئی خواتین ملبے تلے دب گئیں اور موقع پر ہی چیخ و پکار مچ گئی۔
ریسکیو ادارے فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچے اور امدادی کارروائیاں شروع کر دیں۔ زخمی خواتین کو فوری طور پر شیخ زید ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی اور ڈاکٹرز کو ہائی الرٹ کر دیا گیا۔ ابتدائی رپورٹس کے مطابق متعدد خواتین موقع پر جاں بحق ہوئیں جبکہ بعد ازاں زیر علاج مزید خواتین دم توڑ گئیں، جس سے ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہوا۔ حکام کے مطابق 70 سے زائد خواتین زخمی ہیں جن میں بعض کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
واقعے کے بعد ضلعی انتظامیہ نے فوری تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے تاکہ حادثے کی وجوہات اور ممکنہ غفلت کا تعین کیا جا سکے۔ چیئرپرسن بی آئی ایس پی روبینہ خالد نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ آصف علی زرداری کی ہدایت پر ایک اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے جو 24 گھنٹوں میں رپورٹ پیش کرے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ متعلقہ پارٹنر بینک کو نوٹس جاری کر دیا گیا ہے اور اس پر بھاری جرمانہ بھی عائد کیا جا رہا ہے جبکہ ذمہ داران کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
متاثرہ خاندانوں کے لیے امدادی پیکیج کا اعلان بھی کیا گیا ہے جس کے تحت ہر جاں بحق خاتون کے لواحقین کو 10 لاکھ روپے جبکہ ہر زخمی خاتون کو 3 لاکھ روپے فراہم کیے جائیں گے۔ حکام کے مطابق یہ ادائیگیاں فوری طور پر مکمل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ متاثرہ خاندانوں کو کچھ ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ضلعی انتظامیہ کو فوری طور پر جائے حادثہ پر پہنچنے، امدادی سرگرمیاں تیز کرنے اور زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ واقعے کی شفاف اور مکمل تحقیقات کی جائیں اور کسی بھی قسم کی غفلت برداشت نہ کی جائے۔
یہ سانحہ ایک بار پھر اس اہم مسئلے کو اجاگر کرتا ہے کہ امدادی پروگراموں کی تقسیم کے دوران حفاظتی انتظامات، ہجوم پر قابو پانے کے اقدامات اور عمارتوں کی مضبوطی کو یقینی بنانا نہایت ضروری ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر بروقت اور مؤثر انتظامات نہ کیے گئے تو اس طرح کے واقعات مستقبل میں بھی قیمتی جانوں کے ضیاع کا سبب بن سکتے ہیں۔
