وفاقی وزیراطلاعات عطا اللہ تارڑ نے عرب میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایران پر ہونے والے حملوں کی سخت مذمت کی اور کہا کہ پاکستان خلیجی ممالک کے ساتھ اپنی یکجہتی کا بھرپور اظہار کرتا ہے۔
عطا اللہ تارڑ نے واضح کیا کہ پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں حصہ دار بننا چاہتا ہے اور اس مقصد کے لیے ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان نے ماضی میں بھی مختلف تنازعات کے حل کے لیے کامیابی سے ثالثی کا کردار ادا کیا ہے۔
وفاقی وزیر نے افغان طالبان کی جانب سے اسپتال پر بمباری کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیا اور کہا کہ پاکستانی فوج نے افغانستان میں شہری آبادی کو نشانہ نہیں بنایا بلکہ کارروائیاں دہشت گردی پھیلانے والے کیمپوں کو ختم کرنے کے لیے کی گئیں۔ انہوں نے بتایا کہ افغان طالبان پہلے بھی گمراہ کن خبریں پھیلا چکے ہیں۔
عطا اللہ تارڑ نے مزید کہا کہ افغان طالبان رجیم کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ دہشت گردوں کے ساتھ ہے یا پاکستان کے ساتھ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں دہشت گردی کے تمام تانے بانے افغانستان سے جڑے ہوئے ہیں اور پاکستان نے افغانستان میں دہشت گردوں یا افغان طالبان رجیم کے انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا ہے۔ پاکستان کا مؤقف واضح ہے کہ دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو ختم کرنا ناگزیر ہے
