اسلام آباد: آصف علی زرداری نے ایران کے سینئر رہنما علی اردشیر لاریجانی کی شہادت پر گہرے رنج و غم اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ایران کی حکومت اور عوام سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا ہے۔
صدر زرداری نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ ڈاکٹر لاریجانی ایک زیرک، باوقار اور دور اندیش رہنما تھے جنہوں نے نہ صرف ایران بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے فروغ کے لیے نمایاں خدمات انجام دیں۔ انہوں نے نومبر 2025 میں ڈاکٹر لاریجانی کے دورۂ پاکستان کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ اس موقع پر دونوں رہنماؤں کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو توانائی، تجارت، علاقائی روابط اور دیگر اہم شعبوں میں وسعت دینے پر مفصل گفتگو ہوئی تھی۔
صدر نے ڈاکٹر لاریجانی کی ان کاوشوں کو سراہا جن کے ذریعے پاکستان اور ایران کے تعلقات کو نئی جہت ملی اور باہمی اعتماد میں اضافہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے مدبر رہنما کا نقصان نہ صرف ایران بلکہ پورے خطے کے لیے ایک بڑا سانحہ ہے۔
اپنے بیان میں صدر زرداری نے موجودہ علاقائی کشیدگی پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے، جس کے نتیجے میں خطے کی معیشت اور امن و استحکام خطرے میں پڑ رہے ہیں۔
انہوں نے تمام متعلقہ فریقین پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر جارحیت کا سلسلہ بند کریں اور مسائل کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کا راستہ اختیار کریں۔ صدر کا کہنا تھا کہ پائیدار امن صرف بات چیت اور باہمی احترام سے ہی ممکن ہے۔
صدر زرداری نے امید ظاہر کی کہ حالات جلد معمول پر آئیں گے اور مزید جانی نقصان سے قبل امن قائم ہو جائے گا۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان ہر اس کوشش کی بھرپور حمایت کرے گا جو کشیدگی میں کمی اور خطے میں دیرپا امن کے قیام کے لیے کی جا رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان سفارتی سطح پر اپنا تعمیری کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے تاکہ خطے میں تناؤ کم ہو اور تعاون و استحکام کو فروغ ملے۔
