امریکا میں پاکستان کے سابق سفیر اور سابق سیکرٹری خارجہ جلیل عباس جیلانی نے واضح کیا ہے کہ امریکی سیاستدان تلسی گبارڈ کا یہ بیان کہ پاکستان کے ایٹمی میزائل امریکا کی رینج میں ہیں، حقیقت پر مبنی نہیں ہے۔
جیلانی نے کہا کہ پاکستان کے ایٹمی ہتھیار اور میزائل بھارت کے لیے مخصوص ہیں اور ان کا مقصد صرف بھارتی خطرے کے خلاف دفاع ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام دنیا میں طاقت کے اظہار یا جارحیت کے لیے نہیں ہے، بلکہ اس کا بنیادی مقصد قومی دفاع اور خطے میں توازن قائم رکھنا ہے۔
دوسری جانب، تلسی گبارڈ نے امریکی میڈیا سے گفتگو میں کہا تھا کہ پاکستان کے پاس ممکنہ طور پر ایسے میزائل موجود ہیں جو امریکا تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جس نے عالمی سطح پر کچھ تجزیہ کاروں میں تشویش پیدا کی۔
ترکیے کے تجزیہ کار شائق الدین نے اس موقف پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل حقیقت میں امریکا کے لیے کوئی خطرہ نہیں ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کے بین البراعظمی میزائل ذخیرہ، جو روس کی تکنیکی مدد سے مسلسل بڑھ رہا ہے، اس کے مقابلے میں زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ شائق الدین نے کہا کہ تلسی گبارڈ کا بیان یا تو اپنی رائے پر مبنی ہے یا غلط تجزیہ کی مثال ہے، اور اس سے عالمی تجزیہ یا پالیسی پر اثر پڑ سکتا ہے۔
جلیل عباس جیلانی کے مطابق پاکستان کی ایٹمی پالیسی شفاف اور دفاعی نوعیت کی ہے، اور اس کا مقصد صرف خطے میں طاقت کا توازن برقرار رکھنا اور بھارتی جارحیت کے امکانات کو محدود کرنا ہے، نہ کہ دنیا کے دیگر ممالک کے خلاف کسی جارحانہ مہم کی تیاری۔
ماہرین کے مطابق، ایسے بیانات جہاں ایٹمی صلاحیتوں کا غلط تجزیہ کیا جائے، وہ عالمی سطح پر توازن اور خطے کی سلامتی کے بارے میں غلط فہمیاں پیدا کر سکتے ہیں۔ جیلانی اور شائق الدین دونوں کا موقف یہ ہے کہ پاکستان کی ایٹمی صلاحیت صرف دفاعی اور محدود دائرے میں ہے، اور عالمی استحکام کے لیے اسے غلط طور پر تشہیر کرنا نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
