پاکستان میں عیدالفطر کی تاریخ کے حوالے سے جاری قیاس آرائیوں کا بالآخر خاتمہ ہو گیا ہے، جب مرکزی رویت ہلال کمیٹی نے اپنے باضابطہ اعلان میں واضح کیا کہ ملک کے کسی بھی حصے سے شوال کے چاند کی قابلِ تصدیق شہادت موصول نہیں ہوئی۔ اس اعلان کے بعد یہ طے پا گیا ہے کہ رمضان المبارک کے روزے مکمل تیس ہوں گے اور عیدالفطر ہفتہ 21 مارچ 2026 کو منائی جائے گی، جبکہ جمعہ کے روز 30واں روزہ رکھا جائے گا۔
اس اہم فیصلے سے قبل ملک بھر میں چاند دیکھنے کے لیے وسیع پیمانے پر انتظامات کیے گئے تھے۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا کلیدی اجلاس منعقد ہوا، جس کی صدارت چیئرمین مولانا عبدالخبیر آزاد نے کی۔ اجلاس میں نہ صرف کمیٹی کے ارکان شریک ہوئے بلکہ محکمہ موسمیات اور سپارکو (پاکستان اسپیس اینڈ اپر ایٹموسفیئر ریسرچ کمیشن) کے ماہرین نے بھی شرکت کی، جنہوں نے سائنسی بنیادوں پر چاند کی رویت کے امکانات پر بریفنگ دی۔
اسی دوران ملک کے دیگر بڑے شہروں اور چاروں صوبائی دارالحکومتوں میں بھی زونل رویت ہلال کمیٹیوں کے اجلاس منعقد کیے گئے، جہاں مقامی سطح پر چاند نظر آنے یا نہ آنے کے حوالے سے معلومات اکٹھی کی گئیں۔ مختلف علاقوں سے موصول ہونے والی اطلاعات کا جائزہ لے کر انہیں مرکزی کمیٹی کو ارسال کیا گیا تاکہ حتمی فیصلہ کیا جا سکے۔
اگرچہ پشاور کی زونل رویت ہلال کمیٹی کو چاند نظر آنے کے حوالے سے چھ شہادتیں موصول ہوئیں، تاہم ان میں سے پانچ گواہان نے ٹیلیفون کے ذریعے اپنی گواہی دی جبکہ ایک شخص بذاتِ خود کمیٹی کے سامنے پیش ہوا۔ ان تمام شہادتوں کو باقاعدہ طور پر مرکزی رویت ہلال کمیٹی کو بھجوایا گیا، جہاں ان کا شرعی اصولوں اور سائنسی شواہد کی روشنی میں باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔
مرکزی کمیٹی نے تفصیلی مشاورت کے بعد یہ فیصلہ کیا کہ موصول ہونے والی شہادتیں شرعی معیار پر پوری نہیں اترتیں، لہٰذا انہیں قابلِ قبول نہیں سمجھا جا سکتا۔ اسی بنیاد پر چاند نظر آنے کا اعلان نہیں کیا گیا اور رمضان المبارک کو تیس روزوں پر مکمل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
اجلاس کے اختتام پر مولانا عبدالخبیر آزاد نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے باضابطہ اعلان کیا کہ پاکستان میں کہیں بھی شوال کا چاند نظر آنے کی مصدقہ اطلاع نہیں ملی، اس لیے ملک بھر میں عیدالفطر ہفتہ 21 مارچ کو مذہبی جوش و خروش کے ساتھ منائی جائے گی۔
یہ اعلان سامنے آنے کے بعد ملک بھر میں عوام نے اپنی عید کی تیاریوں کو حتمی شکل دینا شروع کر دی ہے۔ بازاروں، شاپنگ مالز اور گھریلو سطح پر عید کی رونقیں مزید بڑھ گئی ہیں، جبکہ شہری اب آخری روزے کے ساتھ عبادات کے ساتھ ساتھ عید کی خوشیوں کے استقبال کی تیاریوں میں مصروف دکھائی دے رہے ہیں۔
یوں ایک بار پھر پاکستان میں چاند کی رویت کے حوالے سے مذہبی اور سائنسی پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کیا گیا، جس نے نہ صرف قوم کو ایک واضح تاریخ فراہم کی بلکہ مذہبی ہم آہنگی کو بھی برقرار رکھا۔
