پنجاب کے جنوبی ضلع رحیم یار خان میں پیش آنے والا ایک المناک حادثہ نہ صرف مقامی سطح پر بلکہ پورے ملک میں افسوس اور تشویش کی لہر دوڑا گیا، جہاں مالی امداد کے حصول کے لیے جمع ہونے والی خواتین ایک خوفناک سانحے کا شکار ہو گئیں۔ اس واقعے نے انتظامی انتظامات، حفاظتی اقدامات اور عوامی سہولیات کی فراہمی پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ ایک مقامی مارکیٹ کے قریب اس وقت پیش آیا جب بڑی تعداد میں خواتین بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے تحت ملنے والی مالی امداد وصول کرنے کے لیے ایک نجی بینک کے ادائیگی مرکز پر جمع تھیں۔ عینی شاہدین کے مطابق خواتین کی تعداد دو سو سے زائد تھی، جو شدید رش کے باعث دکان کی چھت پر بھی موجود تھیں اور اپنی باری کا انتظار کر رہی تھیں۔
انتظامیہ کے مطابق جس عمارت میں یہ خواتین موجود تھیں، اس کی چھت کمزور تھی اور بظاہر اتنے زیادہ بوجھ کو برداشت کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی تھی۔ اچانک چھت کے منہدم ہونے سے متعدد خواتین ملبے تلے دب گئیں، جس کے بعد موقع پر چیخ و پکار مچ گئی اور صورتحال انتہائی سنگین ہو گئی۔
ریسکیو اداروں کو اطلاع ملتے ہی امدادی ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کے لیے بھرپور کارروائیاں شروع کر دیں۔ زخمی خواتین کو فوری طبی امداد فراہم کرتے ہوئے شیخ زید ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی تاکہ متاثرین کو بروقت اور بہتر علاج فراہم کیا جا سکے۔
ابتدائی طور پر ہلاکتوں کی تعداد کم بتائی گئی، تاہم بعد ازاں زخمیوں میں سے مزید خواتین جانبر نہ ہو سکیں جس کے باعث اموات کی تعداد بڑھ کر سات ہو گئی، جبکہ درجنوں خواتین زخمی حالت میں زیر علاج ہیں۔ بعض زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے، جس کے پیش نظر ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ضلعی انتظامیہ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے فوری تحقیقات کا حکم دے دیا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا اس سانحے کے پیچھے کسی قسم کی غفلت یا ناقص انتظامات کارفرما تھے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس بات کا تعین کیا جائے گا کہ اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کو ایک غیر محفوظ جگہ پر جمع ہونے کی اجازت کیوں دی گئی۔
دوسری جانب بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی چیئرپرسن سینیٹر روبینہ خالد نے اس افسوسناک واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ ابتدائی معلومات کے مطابق یہ حادثہ ایک نجی بینک کے ادائیگی مرکز پر پیش آیا، جہاں مستحق خواتین مالی امداد کے حصول کے لیے موجود تھیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ صدر پاکستان آصف علی زرداری کی ہدایات پر وہ فوری طور پر رحیم یار خان پہنچیں تاکہ متاثرہ خاندانوں سے ملاقات کر کے ان کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا جا سکے۔ اس کے ساتھ ہی بی آئی ایس پی کے ہیڈکوارٹر سے ایک اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیٹی بھی روانہ کر دی گئی ہے، جسے ہدایت دی گئی ہے کہ وہ 24 گھنٹوں کے اندر واقعے کی مکمل رپورٹ پیش کرے۔
بی آئی ایس پی حکام نے اس واقعے میں ممکنہ غفلت کے پیش نظر متعلقہ پارٹنر بینک کو شوکاز نوٹس جاری کر دیا ہے اور اس پر جرمانہ عائد کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اگر کسی بھی سطح پر کوتاہی ثابت ہوئی تو ذمہ داران کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
متاثرہ خاندانوں کے لیے مالی امداد کا بھی اعلان کیا گیا ہے، جس کے تحت ہر جاں بحق خاتون کے لواحقین کو دس لاکھ روپے جبکہ زخمی خواتین کو تین لاکھ روپے فراہم کیے جائیں گے۔ حکام کے مطابق یہ ادائیگیاں فوری طور پر مکمل کرنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے تاکہ متاثرین کو بروقت سہارا مل سکے۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے بھی اس افسوسناک واقعے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو فوری طور پر موقع پر پہنچنے اور امدادی سرگرمیوں کو تیز کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے اور علاج میں کسی قسم کی کوتاہی نہ برتنے پر زور دیا۔
اس نے عوامی مقامات پر حفاظتی اقدامات کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ عوامی اجتماعات کے لیے محفوظ مقامات کا انتخاب کیا جائے اور انتظامی سطح پر سخت نگرانی کو یقینی بنایا جائے۔
