کراچی میں احتساب عدالت نے ایک اہم اور قابلِ توجہ فیصلے میں سابق اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کو غیرقانونی اثاثہ جات کے ریفرنس میں بے گناہ قرار دے دیا، جو ان کے انتقال کے تقریباً پانچ ماہ بعد سامنے آیا ہے اور اس نے ایک طویل عرصے سے جاری قانونی مقدمے کا ڈرامائی اختتام کر دیا ہے۔ یہ کیس 2019 میں قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے دائر کیا گیا تھا، جس میں آغا سراج درانی، ان کے اہلخانہ، قریبی ملازمین اور مبینہ فرنٹ مین کو نامزد کیا گیا تھا، جبکہ الزامات کا دائرہ 2008 سے جڑے مالی معاملات تک پھیلا ہوا تھا، جن پر باقاعدہ فردِ جرم بھی عائد کی گئی تھی۔
تاہم کیس نے اس وقت اہم موڑ لیا جب قومی احتساب بیورو نے خود عدالت میں ریفرنس واپس لینے کی درخواست دائر کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ دستیاب شواہد کی بنیاد پر یہ مقدمہ نہیں بنتا، اس لیے اسے مزید آگے بڑھانا قانونی طور پر درست نہیں۔ عدالت نے نیب کے اس مؤقف کو مدنظر رکھتے ہوئے ریفرنس ختم کرنے کی منظوری دے دی، جس کے نتیجے میں مرحوم آغا سراج درانی کو باضابطہ طور پر بری قرار دے دیا گیا۔
عدالتی کارروائی کے دوران یہ بھی سامنے آیا کہ قومی احتساب بیورو کے چیئرمین کی ہدایت پر کیس میں نامزد دیگر ملزمان کو بھی طلب کر لیا گیا ہے، جبکہ زیر حراست افراد کو آئندہ سماعت پر عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا گیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کیس کے دیگر پہلوؤں پر قانونی عمل ابھی جاری رہے گا۔
یہ فیصلہ نہ صرف ایک اہم سیاسی شخصیت کے خلاف طویل احتسابی عمل کے خاتمے کی علامت ہے بلکہ ملک میں احتساب کے نظام، شواہد کی اہمیت اور قانونی عمل کی شفافیت پر بھی نئی بحث کو جنم دے سکتا ہے۔
