وفاقی نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار منگل کے روز بیجنگ پہنچے، جہاں وہ ایک روزہ سرکاری دورے پر چینی ہم منصب وانگ یی سے ملاقات کریں گے۔ اس دورے کا مقصد ایران میں موجود کشیدگی کی موجودہ صورت حال پر تبادلۂ خیال کرنا اور دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات کا جائزہ لینا ہے، جیسا کہ وزارتِ خارجہ کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں بتایا گیا ہے۔
وزارتِ خارجہ کے مطابق، وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار آج صبح بیجنگ کے لیے روانہ ہوئے اور یہ دورہ چینی وزیرِ خارجہ کی دعوت پر کیا جا رہا ہے۔ دورے کے دوران دونوں وزرائے خارجہ باہمی تعلقات کی موجودہ صورتحال کا تجزیہ کریں گے اور خطے اور عالمی سطح کے اہم مسائل پر تبادلۂ خیال کریں گے، جو دونوں ممالک کے لیے باہمی دلچسپی کے حامل ہیں۔ یہ اسحاق ڈار کا اس سال بیجنگ کا دوسرا دورہ ہے، جس سے پاکستان اور چین کے تعلقات میں مستقل رابطے اور تعاون کی عکاسی ہوتی ہے۔
چینی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے بھی اس موقع پر ایک بیان میں کہا کہ پاکستان اور چین تمام موسموں کے لیے اسٹریٹجک شراکت دار ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان اعتماد اور تعاون کی مضبوط بنیاد موجود ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دونوں ممالک عالمی اور خطائی سطح پر بڑے اسٹریٹجک مسائل میں اپنی پوزیشنز میں یکسانیت رکھتے ہیں اور باقاعدگی سے ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں۔
ماؤ ننگ نے بیان میں اس بات پر زور دیا کہ دونوں ملکوں کے وزرائے خارجہ خطے میں مشترکہ مفاد کے حامل مسائل، بشمول ایران کی موجودہ صورت حال، پر رابطے اور تعاون کو مضبوط بنائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک امن اور انصاف کے لیے کام کریں گے اور خطے میں کشیدگی کو کم کرنے، جنگ بندی کو فروغ دینے اور استحکام قائم رکھنے کے لیے نئے اقدامات کریں گے۔
پاکستان اور چین کے تعلقات تاریخی اعتبار سے مضبوط رہے ہیں، اور یہ دورہ اسی دیرینہ شراکت داری کو مزید مستحکم کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی کی ترجیحات میں خطے میں امن و استحکام کو فروغ دینا اور عالمی اسٹریٹجک مسائل میں مؤثر کردار ادا کرنا شامل ہے، اور یہ ملاقات اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے۔
اسحاق ڈار اور وانگ یی کے درمیان ملاقات میں دو طرفہ تجارت، اقتصادی شراکت داری، دفاعی تعاون، اور بین الاقوامی فورمز میں باہمی تعاون کے امور پر بھی بات متوقع ہے۔ ماؤ ننگ کے مطابق، دونوں ملک اپنی اسٹریٹجک شراکت داری کو مضبوط بنانے کے لیے باقاعدگی سے اعلیٰ سطح کی ملاقاتیں کرتے ہیں اور پاکستان کے لیے چین کے کردار کو اسٹریٹجک اور دیرپا اہمیت حاصل ہے۔
ایران میں موجودہ کشیدگی کے حوالے سے، پاکستان ہمیشہ سے خطے میں امن قائم رکھنے اور تشدد کو روکنے کی کوششوں پر زور دیتا رہا ہے۔ بیجنگ میں ہونے والی یہ ملاقات اس بات کا موقع فراہم کرے گی کہ دونوں ممالک ایران کے معاملے پر اپنے مؤقف کو مربوط کریں اور ممکنہ سفارتی حل کے لیے تعاون کریں۔ ترجمان وزارتِ خارجہ ماؤ ننگ نے واضح کیا کہ دونوں ممالک خطے کے استحکام اور عالمی امن کے لیے مشترکہ اقدامات اٹھانے کے لیے تیار ہیں، جس میں ایران کی موجودہ صورت حال بھی شامل ہے۔
یہ دورہ نہ صرف دو طرفہ تعلقات کو فروغ دینے کا موقع ہے بلکہ یہ عالمی برادری کے سامنے بھی یہ پیغام دینے کی کوشش ہے کہ پاکستان اور چین خطے میں امن قائم رکھنے اور تنازعات کو حل کرنے کے لیے مل کر کام کر رہے ہیں۔ اسحاق ڈار کی قیادت میں پاکستان کی ٹیم چین کے ہم منصب کے ساتھ مفصل مذاکرات کرے گی تاکہ باہمی دلچسپی کے ہر شعبے میں روابط کو مضبوط بنایا جا سکے۔
چینی وزارتِ خارجہ کی ترجمان کے مطابق، دونوں ممالک عالمی اسٹریٹجک مسائل میں اپنی پوزیشنز پر اتفاق رکھتے ہیں اور ایک دوسرے کے مؤقف کو سپورٹ کرتے ہیں۔ یہ اتفاق رائے اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ دونوں ممالک عالمی اور خطائی سطح پر مؤثر انداز میں تعاون جاری رکھیں گے اور اہم عالمی فورمز میں مشترکہ موقف اختیار کریں گے۔
وزارتِ خارجہ کے بیان میں مزید کہا گیا کہ اسحاق ڈار اور وانگ یی کے درمیان مذاکرات میں اقتصادی شعبے، توانائی کے منصوبے، انفراسٹرکچر کی ترقی، تعلیم اور ثقافت سمیت ہر شعبے میں تعلقات کو مستحکم بنانے پر بھی بات ہوگی۔ پاکستان اور چین کی اقتصادی اور تجارتی شراکت داری میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، اور اس ملاقات کا مقصد دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی حجم اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کرنا بھی ہے۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ چین اور پاکستان کے درمیان تعلقات کی بنیاد اعتماد اور باہمی احترام پر قائم ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے دونوں ممالک نے مختلف عالمی چیلنجز کے دوران ایک دوسرے کی حمایت کی ہے، اور یہ دورہ اسی دیرینہ تعلقات کی مزید مضبوطی کی عکاسی کرتا ہے۔
ماؤ ننگ نے کہا کہ اس ملاقات کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ دونوں ممالک خطے میں امن، استحکام اور کشیدگی کم کرنے کے لیے مشترکہ طور پر کوششیں کریں گے۔ ایران کی موجودہ صورتحال کے حوالے سے دونوں وزرائے خارجہ کے درمیان تبادلۂ خیال اس بات کو یقینی بنائے گا کہ پاکستان اور چین کے مؤقف میں ہم آہنگی موجود ہو اور دونوں ممالک سفارتی اور سیاسی سطح پر مل کر اقدامات کریں۔
اسحاق ڈار کے چین کے لیے یہ دوسرا دورہ اس سال میں ہے، جو اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ اعلیٰ سطح پر دونوں ملکوں کے درمیان مسلسل رابطے اور تعاون جاری ہے۔ اس کے علاوہ، اس ملاقات کے دوران باہمی تجارت، سرمایہ کاری، دفاع، اور سیکیورٹی کے امور پر بھی غور کیا جائے گا تاکہ دونوں ملکوں کے تعلقات ہر سطح پر مضبوط ہوں۔
یہ دورہ ایک روزہ ہونے کے باوجود پاکستان اور چین کے تعلقات میں گہرائی پیدا کرنے اور باہمی اعتماد کو مزید مستحکم کرنے کا موقع فراہم کرے گا۔ ماؤ ننگ کے بیان سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ دونوں ممالک ایران کے معاملے میں امن کی کوششوں کو ترجیح دے رہے ہیں اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے مشترکہ موقف اختیار کریں گے۔
اسحاق ڈار کا بیجنگ دورہ نہ صرف دو طرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے بلکہ عالمی اور خطائی مسائل میں پاکستان اور چین کے مؤقف کو ہم آہنگ کرنے کے لیے بھی اہم ہے۔ اس ملاقات کے بعد دونوں ممالک کے درمیان رابطے مزید مستحکم ہوں گے اور خطے میں امن قائم رکھنے کے لیے مشترکہ اقدامات کی راہیں ہموار ہوں گی۔
