جنوبی ایشیا میں ایک بار پھر کشیدگی کی فضا گہری ہوتی دکھائی دے رہی ہے، جہاں پاکستان اور بھارت کے درمیان بیانات کی جنگ نے سفارتی ماحول کو مزید حساس بنا دیا ہے۔ حالیہ دنوں میں دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام کی جانب سے دیے گئے بیانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ خطے میں اعتماد کا فقدان برقرار ہے، جبکہ ماضی کے واقعات کو بنیاد بنا کر موجودہ حالات کو مزید پیچیدہ بنایا جا رہا ہے۔
اس تناظر میں پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے ایک اہم ردعمل دیتے ہوئے بھارتی وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ کو سخت پیغام دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اشتعال انگیز بیانات اور دھمکی آمیز لہجہ نہ صرف غیر ذمہ دارانہ ہے بلکہ یہ خطے میں امن و استحکام کے لیے خطرناک بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ خواجہ آصف نے واضح کیا کہ پاکستان کسی بھی ممکنہ مہم جوئی کا بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے اور ایسے بیانات سے گریز کیا جانا چاہیے جو حالات کو مزید خراب کریں۔
یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پہلگام میں ہونے والے ایک خونی واقعے کی برسی قریب آ رہی ہے۔ گزشتہ برس 22 اپریل کو مقبوضہ جموں و کشمیر کے علاقے پہلگام میں ایک حملے کے دوران 26 سیاح ہلاک ہو گئے تھے، جس نے پورے خطے کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ اس واقعے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان الزام تراشیوں کا سلسلہ شروع ہوا، جو آج تک کسی نہ کسی صورت میں جاری ہے۔
بھارتی وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ نے حالیہ بیان میں پاکستان کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر سرحد پر کسی قسم کی جارحیت یا مہم جوئی کی گئی تو اس کا سخت اور غیر معمولی جواب دیا جائے گا۔ ان کے مطابق بھارت اپنی سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا اور ہر ممکن اقدام اٹھانے کے لیے تیار ہے۔ اس بیان کو پاکستان کی جانب سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔
خواجہ آصف نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم پر اپنے بیان میں کہا کہ بھارت کی جانب سے اس نوعیت کے بیانات کوئی نئی بات نہیں بلکہ یہ ایک مخصوص طرزِ عمل کا حصہ ہیں۔ انہوں نے ان بیانات کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال ہونے والا حربہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارت اکثر اپنی داخلی کمزوریوں کو چھپانے کے لیے بیرونی محاذ پر کشیدگی پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
پاکستانی وزیرِ دفاع نے مزید الزام عائد کیا کہ پہلگام کا واقعہ ایک منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا ڈرامہ تھا جسے عالمی سطح پر پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کی گئی، تاہم ایسے بیانیے بین الاقوامی برادری کے سامنے زیادہ دیر تک ٹھہر نہیں سکے۔ ان کے مطابق بھارت بار بار ایسے "من گھڑت بحران” پیدا کرتا ہے جو نہ صرف خطے کے امن کے لیے نقصان دہ ہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی سوالات کو جنم دیتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے دھمکی آمیز بیانات دینا دراصل اس کی اسٹریٹیجک بے چینی کو ظاہر کرتا ہے، خاص طور پر ایسے مواقع پر جب کسی اہم واقعے کی برسی قریب ہو۔ ان کے مطابق اس طرح کے بیانات کا مقصد داخلی سیاست میں فائدہ حاصل کرنا اور عوام کی توجہ دیگر مسائل سے ہٹانا ہوتا ہے۔
یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی اس سے قبل بھی خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے۔ ایک موقع پر حالات اس نہج پر پہنچ گئے تھے کہ عسکری سطح پر جھڑپوں نے شدت اختیار کر لی تھی۔ اس دوران دونوں اطراف سے سخت ردعمل سامنے آیا اور خطے میں جنگ کے خدشات بھی پیدا ہو گئے تھے۔
اسی کشیدہ صورتحال کے دوران عالمی سطح پر سفارتی کوششیں تیز ہو گئیں۔ امریکہ سمیت کئی ممالک نے دونوں جوہری طاقتوں کو تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مذاکرات کی راہ اپنانے کی تلقین کی۔ بالآخر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 10 مئی کو اعلان کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی پر اتفاق ہو گیا ہے، جو رات بھر جاری رہنے والی سفارتی کاوشوں کا نتیجہ تھا۔
جنگ بندی کے بعد دونوں ممالک نے بتدریج سرحدی علاقوں میں اپنی فوجی موجودگی میں کمی کرنا شروع کی، جس سے کشیدگی میں کچھ حد تک کمی آئی۔ تاہم بیانات کی سطح پر تناؤ مکمل طور پر ختم نہیں ہو سکا اور وقتاً فوقتاً اس طرح کے بیانات سامنے آتے رہتے ہیں جو حالات کو دوبارہ خراب کرنے کا باعث بن سکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ دونوں ممالک ذمہ داری کا مظاہرہ کریں اور ایسے بیانات سے اجتناب کریں جو کشیدگی میں اضافہ کریں۔ خاص طور پر ایسے حساس مواقع پر، جب ماضی کے واقعات کی برسی قریب ہو، محتاط طرزِ عمل اپنانا نہایت ضروری ہوتا ہے۔
