بلوچستان حکومت نے ایک اہم اور دور رس اثرات کے حامل فیصلے میں ایران کے ساتھ سرحدی اضلاع کے رہائشیوں کیلئے دہائیوں پر محیط ’راہداری‘ نظام ختم کرتے ہوئے آئندہ کیلئے اس پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔
یکم مارچ کو ڈپٹی کمشنرز کی جانب سے جاری نوٹیفکیشنز کے مطابق اب سرحدی اضلاع کے مکین ایران جانے کیلئے صرف پاسپورٹ اور ایرانی ویزے کے ذریعے ہی سرحد عبور کر سکیں گے، جس سے غیر رسمی اور آسان آمدورفت کا ایک طویل باب بند ہو گیا ہے۔
بلوچستان حکومت کے ترجمان شاہد رند کے مطابق یہ فیصلہ موجودہ جنگی صورتحال سے منسلک نہیں بلکہ اپیکس کمیٹی کی جانب سے پہلے سے طے شدہ پالیسی کا حصہ ہے، جس پر مرحلہ وار عملدرآمد کیا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بڑھتے ہوئے سکیورٹی چیلنجز کے پیش نظر سرحدی آمدورفت کو عالمی اصولوں کے مطابق منظم کرنا ضروری ہو چکا تھا، اسی لیے اب پاسپورٹ اور ویزا نظام کو مکمل طور پر نافذ کیا جا رہا ہے۔
ماہرین اور مقامی ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ محض ایک انتظامی تبدیلی نہیں بلکہ تقریباً 150 سال پر محیط اس روایت کا خاتمہ ہے، جس کے تحت سرحد کے دونوں جانب آباد قبائل کو محدود فاصلے تک آزادانہ نقل و حرکت، تجارت اور سماجی روابط کی اجازت حاصل تھی۔
ماضی میں سرحدی افراد بغیر کسی فیس کے آسانی سے راہداری حاصل کر لیتے تھے، جس کے ذریعے وہ نہ صرف کاروبار کرتے بلکہ اپنے رشتہ داروں سے بھی باآسانی ملتے تھے۔
سرحدی علاقوں کے رہائشیوں نے اس فیصلے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ تفتان اور چاغی سمیت مختلف علاقوں کے لوگوں کا کہنا ہے کہ راہداری کے خاتمے سے نہ صرف کاروبار متاثر ہوگا بلکہ خاندانوں کے درمیان روابط بھی کمزور پڑ جائیں گے۔
مقامی افراد کے مطابق بہت سے خاندان ایسے ہیں جن کے افراد سرحد کے دونوں جانب آباد ہیں، اور اب پاسپورٹ و ویزا کی پابندیوں کے باعث ان سے ملنا مشکل ہو جائے گا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ خشک سالی اور موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث پہلے ہی متاثرہ سرحدی علاقوں کے لوگوں کا انحصار ایرانی تیل اور اشیائے خورونوش پر بڑھ چکا تھا۔ ایسے میں اس فیصلے سے مقامی معیشت پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق سرحدی علاقوں میں پاسپورٹ اور ویزا سہولیات کو آسان بنانے کیلئے نئے پوائنٹس قائم کیے جا رہے ہیں تاکہ عوام کو کم سے کم مشکلات کا سامنا ہو۔
تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق یہ فیصلہ ایک طرف سکیورٹی اور نظم و ضبط کیلئے اہم قدم ہے، تو دوسری جانب اس کے سماجی اور معاشی اثرات بھی دور رس ہو سکتے ہیں، جن سے نمٹنے کیلئے حکومت کو اضافی اقدامات کرنا ہوں گے۔
