خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور بدلتی ہوئی صورتحال کے تناظر میں نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے سعودی عرب، مصر اور بحرین کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ ٹیلیفونک رابطے کیے، جن میں دو طرفہ تعلقات، سفارتی تعاون اور مشرق وسطیٰ کی تازہ صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزارت خارجہ کی جانب سے جاری تفصیلات کے مطابق اسحاق ڈار نے سب سے پہلے سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان بن عبداللہ سے گفتگو کی۔ اس رابطے کے دوران دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان برادرانہ تعلقات کا جائزہ لیا اور مختلف شعبوں میں جاری تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔ دونوں وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ علاقائی حالات میں باہمی مشاورت اور مسلسل رابطہ نہایت ضروری ہے تاکہ مشترکہ چیلنجز کا بہتر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔
گفتگو کے دوران مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی، سلامتی کی صورتحال اور خطے کے دیگر اہم معاملات پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب کو علاقائی معاملات میں ایک دوسرے کے ساتھ قریبی رابطہ برقرار رکھنا چاہیے تاکہ کسی بھی ممکنہ بحران سے نمٹنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی اختیار کی جا سکے۔
دوسری جانب اسحاق ڈار نے مصر کے وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی سے بھی رابطہ کیا۔ اس گفتگو میں دونوں رہنماؤں نے خطے میں پیدا ہونے والی نئی صورتحال، سفارتی کوششوں اور امن کے امکانات پر تفصیلی بات چیت کی۔ دونوں فریقین نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ حالات میں کشیدگی کم کرنے اور تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات ہی سب سے مؤثر راستہ ہیں۔
پاکستانی وزارت خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار اور مصری وزیر خارجہ نے اس امر پر اتفاق کیا کہ خطے میں بڑھتے ہوئے تناؤ کو کم کرنے کے لیے تمام متعلقہ ممالک کو تحمل، دانشمندی اور سفارت کاری کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات کو بھی اہم قرار دیا کہ علاقائی استحکام کے لیے مشترکہ سفارتی اقدامات جاری رکھے جائیں۔
اسی سلسلے میں نائب وزیر اعظم نے بحرین کے وزیر خارجہ عبداللطیف بن راشد الزیانی سے بھی ٹیلیفونک گفتگو کی۔ اس رابطے کے دوران دونوں رہنماؤں نے مشرق وسطیٰ اور خلیجی خطے کی تازہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا اور عالمی سطح پر ہونے والی سفارتی کوششوں کا جائزہ لیا۔
اسحاق ڈار نے بحرینی وزیر خارجہ کو پاکستان اور چین کی جانب سے پیش کیے گئے پانچ نکاتی منصوبے سے بھی آگاہ کیا، جس کا مقصد مشرق وسطیٰ اور خلیجی خطے میں امن، استحکام اور کشیدگی میں کمی لانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں تمام ممالک کو تحمل، مذاکرات اور سفارتی ذرائع کے ذریعے مسائل حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں جاری مشاورت اور دیگر عالمی سفارتی سرگرمیوں پر بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ اسحاق ڈار نے زور دیا کہ خطے میں کشیدگی کم کرنا فوری ضرورت ہے، کیونکہ مسلسل تناؤ نہ صرف علاقائی امن بلکہ عالمی معیشت اور سلامتی کے لیے بھی خطرہ بن سکتا ہے۔
بحرین کے وزیر خارجہ عبداللطیف بن راشد الزیانی نے خطے میں امن کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہا اور کہا کہ پاکستان مسلسل سفارت کاری، مذاکرات اور باہمی رابطوں کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جو قابل تحسین ہے۔
وزارت خارجہ کے مطابق تینوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے ساتھ ہونے والی ان گفتگوؤں میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ آئندہ بھی رابطے جاری رکھے جائیں گے تاکہ خطے میں امن و استحکام کے لیے مشترکہ کوششوں کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔
