اسلام آباد: وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے بدھ کے روز ایران کے صدر مسعود پزشکیان سے ایک اہم ٹیلی فونک رابطہ کیا، جس میں خطے کی مجموعی صورتحال، امن و استحکام اور جاری سفارتی پیش رفت پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیراعظم آفس سے جاری اعلامیے کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی یہ گفتگو نہایت خوشگوار، دوستانہ اور نتیجہ خیز رہی، جو 45 منٹ سے زائد جاری رہی۔ اس دوران دونوں ممالک کے مابین دوطرفہ تعلقات، علاقائی سلامتی اور عالمی سطح پر بدلتی ہوئی صورتحال پر بھی کھل کر بات چیت کی گئی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اس موقع پر ایرانی قیادت کی دانشمندی، تدبر اور دوراندیشی کو سراہتے ہوئے کہا کہ جنگ بندی پر آمادگی ظاہر کرنا خطے میں امن کے قیام کے لیے ایک مثبت اور خوش آئند قدم ہے۔ انہوں نے اس امر پر بھی اطمینان کا اظہار کیا کہ ایران نے پاکستان کی جانب سے ایران اور امریکہ کے درمیان مجوزہ مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش کو قبول کیا ہے، جو رواں ہفتے اسلام آباد میں متوقع ہیں۔
وزیراعظم نے ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے لیے بھی نیک تمناؤں اور تعظیم کا اظہار کیا اور دونوں ممالک کے درمیان برادرانہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے وزیراعظم شہباز شریف کا شکریہ ادا کرتے ہوئے پاکستان کی جانب سے ایران اور امریکہ کے درمیان عارضی جنگ بندی میں کردار کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی قیادت نے خطے میں کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل کو فروغ دینے میں مثبت اور تعمیری کردار ادا کیا ہے۔
ایرانی صدر نے پاکستانی عوام کے لیے اپنی نیک خواہشات کا اظہار بھی کیا اور اس بات کی تصدیق کی کہ ایران اسلام آباد میں ہونے والے اہم مذاکرات میں بھرپور شرکت کرے گا، جس سے خطے میں امن و استحکام کی نئی راہیں کھلنے کی امید ہے۔
گفتگو کے اختتام پر دونوں رہنماؤں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اور ایران باہمی رابطوں کو مزید فروغ دیں گے اور خطے میں امن، ترقی اور استحکام کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھیں گے۔ یہ رابطہ نہ صرف دونوں ممالک کے مضبوط تعلقات کا عکاس ہے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے بڑھتے ہوئے سفارتی کردار کو بھی نمایاں کرتا ہے
