اسلام آباد / نئی دہلی: امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی میں پاکستان کے مؤثر کردار نے نہ صرف عالمی سطح پر پذیرائی حاصل کی ہے بلکہ بھارت میں بھی عوام، دانشوروں اور تجزیہ کاروں نے پاکستان کی کامیاب سفارتکاری کو کھلے دل سے تسلیم کیا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف سید عاصم منیر کی قیادت کو خطے میں امن کے قیام کے لیے ایک مثبت اور فیصلہ کن پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔ پاکستان کی درخواست پر امریکا اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی کو دنیا بھر میں سراہا جا رہا ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (ٹوئٹر) پر #PakGlobalPeaceMaker ٹاپ ٹرینڈ بن گیا، جہاں بھارتی صارفین نے بھی پاکستان کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے اسے ایک ذمہ دار عالمی طاقت کے طور پر پیش کیا۔
بھارتی ماہرین اور دانشوروں نے بھی اس پیش رفت پر کھل کر اظہار خیال کیا۔ معروف پروفیسر اشوک سوین نے وائٹ ہاؤس کی پوسٹ شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ یہ ایران کے لیے ایک فتح اور پاکستان کے لیے اعزاز ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کی کوشش کے برعکس بھارت خود سفارتی تنہائی کا شکار ہو گیا۔
دفاعی تجزیہ کار Pravin Sawhney نے بھی وزیراعظم شہباز شریف کی تعریف کرتے ہوئے اسے ایک “شاندار سفارتی کامیابی” قرار دیا۔
اسی طرح مصنف Atul Khatri نے پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ وہ پاکستان کے حق میں اس طرح کا پیغام لکھیں گے۔
دانشور Jayant Bhandari نے کہا کہ پاکستان نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ مؤثر اور قابل قیادت پیدا کر سکتا ہے، جبکہ دفاعی تجزیہ کار Abhijit Iyer-Mitra نے شہباز شریف اور عاصم منیر کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ کامیاب ثالثی کے لیے مہارت کے ساتھ خطرہ مول لینے کی صلاحیت بھی ضروری ہوتی ہے، جو پاکستان نے دکھائی۔
صحافی ادیتا مینن نے لکھا کہ دونوں رہنما 14 روزہ جنگ بندی کے لیے داد کے مستحق ہیں اور پاکستان کی کوششوں کو دونوں جانب تسلیم کیا گیا ہے۔
فلمی نقاد کے آر کے نے وزیراعظم پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ممکنہ ایٹمی جنگ کو روک کر نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کو بڑے خطرے سے بچایا ہے، اور یہ کردار تاریخ میں یاد رکھا جائے گا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ غیر معمولی ردعمل اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کی حالیہ سفارتکاری نے عالمی سطح پر ایک مثبت تاثر قائم کیا ہے، جبکہ خطے میں امن کے لیے اس کا کردار مزید اہمیت اختیار کر گیا ہے۔
