اسلام آباد اس وقت غیر معمولی حفاظتی حصار میں آ چکا ہے کیونکہ پاکستان کی میزبانی میں امریکہ اور ایران کے درمیان اہم مذاکرات کا آغاز آج سے ہونے جا رہا ہے۔ وفاقی دارالحکومت میں مختلف داخلی اور خارجی راستوں پر سخت نگرانی شروع کر دی گئی ہے جبکہ متعدد سڑکوں کو جزوی یا مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے۔ ریڈ زون کے اطراف میں اضافی رکاوٹیں کھڑی کی گئی ہیں، مختلف مقامات پر ناکے قائم ہیں اور صرف اجازت نامہ رکھنے والے افراد کو مخصوص علاقوں میں داخلے کی سہولت دی جا رہی ہے۔ شہر میں دو روزہ تعطیل کے اعلان کی وجہ سے ٹریفک کا دباؤ معمول سے کم دکھائی دے رہا ہے، تاہم اہم شاہراہوں پر نقل و حرکت محدود ہے۔
یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی کے بعد سفارتی کردار ادا کرتے ہوئے دونوں ممالک کو ایک میز پر لانے کی کوشش کی۔ جنگ بندی کے اعلان کے بعد وزیر اعظم شہباز شریف نے دونوں ممالک کو اسلام آباد میں براہ راست بات چیت کے لیے مدعو کیا تھا تاکہ عارضی خاموشی کو مستقل مفاہمت میں بدلا جا سکے۔ پاکستانی حکام اس عمل کو خطے میں استحکام کے لیے ایک اہم موقع قرار دے رہے ہیں۔
امریکی انتظامیہ کی جانب سے بھی اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ ایک اعلیٰ سطحی وفد اسلام آباد پہنچے گا۔ امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کریں گے جبکہ ان کے ہمراہ خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر بھی شریک ہوں گے۔ وائٹ ہاؤس نے ان مذاکرات کو نہایت اہم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ چاہتا ہے کہ حالیہ جنگ بندی کو زیادہ پائیدار اور دیرپا شکل دی جائے۔ اطلاعات کے مطابق امریکی وفد ہفتے کے روز ابتدائی نشستوں میں حصہ لے گا۔
دوسری جانب ایران نے بھی اپنی نمائندگی کے لیے ایک خصوصی وفد بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی منظوری سے بھیجے جانے والے وفد کی سربراہی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کریں گے۔ ذرائع کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی وفد میں شامل ہو سکتے ہیں، جس سے یہ اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ تہران ان مذاکرات کو سنجیدگی سے لے رہا ہے اور کسی ممکنہ پیش رفت کے لیے آمادہ دکھائی دیتا ہے۔
اسلام آباد میں ان مذاکرات کے انعقاد کے پیش نظر سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں۔ وزارت داخلہ میں ایک خصوصی کنٹرول روم قائم کر دیا گیا ہے جو تمام سرگرمیوں کی نگرانی کرے گا۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی سربراہی میں ہونے والے اہم اجلاس میں سکیورٹی منصوبے کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں وزارت داخلہ کے اعلیٰ حکام، پولیس، رینجرز اور دیگر متعلقہ اداروں کے نمائندے شریک ہوئے۔ حکام نے فیصلہ کیا کہ ریڈ زون کو مکمل طور پر محدود کر دیا جائے گا اور صرف متعلقہ شخصیات، سرکاری اہلکاروں اور مجاز افراد کو وہاں داخل ہونے کی اجازت دی جائے گی۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی مذاکراتی مقام کا دورہ کیا اور وہاں موجود انتظامات کا جائزہ لیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ سکیورٹی، آمد و رفت، مہمانوں کی رہائش اور اجلاس کے انتظامات میں کسی قسم کی کمی نہ رہنے دی جائے۔ اسی دوران امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر نے وزیر داخلہ محسن نقوی سے ملاقات کی، جس میں دونوں ممالک کے وفود کی آمد اور سکیورٹی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ محسن نقوی نے اس موقع پر کہا کہ امریکی وفد پاکستان کے خصوصی مہمان ہوں گے اور ان کے قیام اور حفاظت کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
پاکستان کے لیے یہ مذاکرات سفارتی سطح پر ایک اہم امتحان سمجھے جا رہے ہیں کیونکہ اس سے نہ صرف خطے میں امن کے امکانات جڑے ہوئے ہیں بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے کردار کو بھی نئی اہمیت مل سکتی ہے۔ اگر یہ مذاکرات کامیاب رہتے ہیں تو پاکستان کو ایک مؤثر ثالث کے طور پر دیکھا جائے گا، جبکہ ناکامی کی صورت میں خطے میں دوبارہ کشیدگی بڑھنے کا خدشہ بھی موجود ہے۔
