اسلام آباد میں ہونے والے “اسلام آباد مذاکرات 2026” کے لیے پاکستان نے غیر معمولی سفری اور سکیورٹی انتظامات کو حتمی شکل دے دی ہے، جہاں دنیا کے مختلف ممالک سے آنے والے مندوبین، صحافیوں اور دیگر نمائندوں کو آمد پر ویزا جاری کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس اقدام کے تحت پاکستان نے بین الاقوامی شرکاء کے لیے سفری سہولت کو آسان بناتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ایئرلائنز ایسے تمام افراد کو بغیر پیشگی ویزا کے بورڈنگ کی اجازت دیں، جبکہ پاکستانی امیگریشن حکام ان کی آمد پر ویزا فراہم کریں گے۔
یہ اعلان نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر سامنے آیا، جس میں انہوں نے کہا کہ پاکستان ان تمام غیر ملکی شرکاء اور میڈیا نمائندگان کا خیرمقدم کرتا ہے جو اس اہم سفارتی اجلاس میں شرکت کے لیے اسلام آباد آ رہے ہیں۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ مذاکراتی عمل میں شفافیت اور بین الاقوامی شرکت کو آسان بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔
دوسری جانب ملک میں داخلی سطح پر سکیورٹی انتظامات کو بھی انتہائی سخت کر دیا گیا ہے۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت دی کہ غیر ملکی مہمانوں کے لیے فول پروف سکیورٹی کو یقینی بنایا جائے اور کسی بھی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ اجلاس میں سکیورٹی، پروٹوکول اور انتظامی سہولتوں سے متعلق تمام پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
وزارت داخلہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق اسلام آباد کے حساس علاقے ریڈ زون کو مکمل طور پر سیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جہاں صرف مجاز افراد کو داخلے کی اجازت ہوگی۔ اس کے علاوہ ایک خصوصی کنٹرول روم بھی قائم کر دیا گیا ہے جو پورے ایونٹ کی نگرانی اور مختلف اداروں کے درمیان رابطے کا مرکز ہوگا تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے فوری طور پر نمٹا جا سکے۔
محسن نقوی نے اس موقع پر کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے بعد ان مذاکرات کی میزبانی پاکستان کے لیے ایک اعزاز کی حیثیت رکھتی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان خطے میں امن کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا اور اس اہم موقع پر ہر ممکن سہولت فراہم کی جائے گی تاکہ مذاکراتی عمل کامیابی سے آگے بڑھ سکے۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق اسلام آباد میں غیر معمولی حفاظتی اقدامات نافذ کیے گئے ہیں، اہم شاہراہوں پر ناکہ بندی، اضافی نفری کی تعیناتی اور جدید نگرانی کے نظام کو فعال کر دیا گیا ہے۔ اجلاس کے مقام کو خفیہ رکھا گیا ہے تاکہ شرکاء کی سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے اور میڈیا کی براہ راست رسائی محدود رہے۔
یہ مذاکرات حالیہ چھ ہفتوں کی شدید کشیدگی اور جنگ کے بعد منعقد ہو رہے ہیں، جس میں ہزاروں جانوں کا نقصان ہوا اور عالمی معیشت پر بھی دباؤ بڑھا۔ تین دن قبل ہونے والی نازک جنگ بندی کے بعد اب ان مذاکرات کا مقصد اس عارضی سکون کو مستقل امن معاہدے میں تبدیل کرنا ہے۔
امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کریں گے جبکہ ان کے ہمراہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی مشیر اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر بھی شامل ہوں گے۔ دوسری جانب ایرانی وفد کی قیادت پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کریں گے، جبکہ وزیر خارجہ عباس عراقچی اور دیگر اعلیٰ حکام بھی وفد کا حصہ ہوں گے۔
