نیپرا نے بجلی کی قیمت میں 1 روپے 42 پیسے فی یونٹ اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، جس کا اطلاق ایک ماہ کیلئے ہوگا اور اس کا بوجھ صارفین کو اپریل کے بلوں میں برداشت کرنا پڑے گا۔
اعلامیے کے مطابق یہ اضافہ فروری کے ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں کیا گیا ہے، جو بجلی پیدا کرنے کیلئے استعمال ہونے والے ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کی بنیاد پر طے کیا جاتا ہے۔
نیپرا کے مطابق اس فیصلے کا اطلاق کے الیکٹرک سمیت ملک بھر کی تمام ڈسٹری بیوشن کمپنیوں (ڈسکوز) کے صارفین پر ہوگا، جس سے گھریلو، تجارتی اور صنعتی صارفین متاثر ہوں گے۔
مزید بتایا گیا کہ اضافی رقم اپریل کے بجلی بلوں میں شامل کر کے صارفین سے وصول کی جائے گی، جس سے مہنگائی کے دباؤ میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ ہے۔
ذرائع کے مطابق سی پی پی اے نے بجلی کی قیمت میں 1 روپے 62 پیسے فی یونٹ اضافے کی درخواست کی تھی، تاہم نیپرا نے سماعت مکمل کرنے کے بعد اس میں کمی کرتے ہوئے 1 روپے 42 پیسے فی یونٹ اضافے کی منظوری دی۔
ماہرین کے مطابق اگرچہ اضافہ عارضی ہے، لیکن بار بار ہونے والی فیول ایڈجسٹمنٹس صارفین کیلئے مالی مشکلات میں اضافہ کر رہی ہیں، اور اس صورتحال میں توانائی کے متبادل ذرائع اور پالیسی اصلاحات کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔
