وزیراعظم کی سربراہی میں وفاقی کابینہ کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں ملک کی مجموعی سیاسی صورت حال، معاشی حالات، سلامتی کے چیلنجز اور خطے میں جاری سفارتی سرگرمیوں پر تفصیلی غور و فکر کیا گیا۔ اجلاس میں حالیہ عالمی اور علاقائی پیش رفتوں پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا اور خطے میں بدلتے ہوئے حالات کے تناظر میں پاکستان کے کردار کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کے دوران وزیراعظم نے کابینہ کو بتایا کہ پاکستان نے ایک طویل عرصے کے بعد دو اہم عالمی فریقین کو ایک میز پر لانے میں مؤثر سفارتی کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کی کوششوں سے وہ فریقین جو برسوں سے براہِ راست رابطے میں نہیں تھے، اب ایک مرتبہ پھر مذاکرات کی میز پر بیٹھے ہیں۔ اس پیش رفت کو ایک اہم سفارتی کامیابی قرار دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کا بنیادی مقصد خطے میں کشیدگی کو کم کرنا اور دیرپا امن کے لیے راہیں ہموار کرنا ہے۔
کابینہ اراکین نے خطے میں جاری مذاکراتی عمل میں پاکستان کی کوششوں کو مثبت اور تعمیری قرار دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان نے ہمیشہ امن، استحکام اور بات چیت کی حمایت کی ہے۔ اجلاس کے دوران نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ کی جانب سے کی جانے والی سفارتی کوششوں کا خصوصی ذکر کیا گیا جبکہ عسکری قیادت کی جانب سے تعاون اور حکمتِ عملی کو بھی سراہا گیا۔ اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ حالیہ پیش رفت پاکستان کی سفارتی بصیرت اور متوازن خارجہ پالیسی کا نتیجہ ہے۔
وزیراعظم نے کابینہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے نہ صرف مذاکرات کی راہ ہموار کی بلکہ فریقین کے درمیان اعتماد سازی کے لیے بھی مؤثر کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سنجیدہ سفارتی کوششوں کے باعث دونوں جانب سے مثبت ردِعمل سامنے آیا اور ایک ایسا ماحول پیدا ہوا جس میں بات چیت کا عمل آگے بڑھ سکا۔ وزیراعظم نے مزید کہا کہ سیز فائر کے قیام اور اسے برقرار رکھنے میں بھی پاکستان کی کاوشیں نہایت اہم رہیں۔
اجلاس میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا کہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے کردار کو سراہا جا رہا ہے اور کئی عالمی رہنماؤں نے پاکستان کی جانب سے کی جانے والی ثالثی اور سفارتی اقدامات کو مثبت قرار دیا ہے۔ وزیراعظم نے اس پیش رفت کو ایک تاریخی موقع قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے حالات میں جب کشیدگی بڑھنے کا خطرہ تھا، پاکستان نے جنگی ماحول کو کم کرنے اور امن کی جانب پیش رفت میں اپنا حصہ ڈالا۔
وزیراعظم نے اپنی گفتگو میں نائب وزیراعظم اور ان کی ٹیم کی کوششوں کو سراہا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان آئندہ بھی خطے میں امن و استحکام کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گا۔ انہوں نے عسکری قیادت کے تعاون اور معاونت کو بھی اہم قرار دیا اور کہا کہ مشترکہ کوششوں سے ہی سفارتی کامیابیاں ممکن ہوئیں۔
کابینہ نے اس امید کا اظہار کیا کہ جاری مذاکرات مثبت نتائج کی طرف بڑھیں گے اور خطے میں تعاون، استحکام اور پائیدار امن کا نیا باب کھلے گا۔
