پاکستان کے امریکہ میں سفیر رضوان سعید شیخ نے ہارورڈ یونیورسٹی میں منعقدہ “پاکستان کانفرنس” سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کو موجودہ دور اور مستقبل کی ضرورت قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان روابط محض اختیاری نوعیت کے نہیں بلکہ عالمی اور علاقائی حالات کے تناظر میں ناگزیر حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔
اپنے خطاب میں انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان اپنی جغرافیائی اہمیت، سیاسی کردار اور خطے میں سفارتی اثر و رسوخ کے باعث عالمی معاملات میں ایک کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے حالیہ برسوں میں اپنی سفارتی پالیسیوں کے ذریعے نہ صرف خطے میں امن کے لیے کردار ادا کیا ہے بلکہ عالمی سطح پر مختلف تنازعات میں بھی مثبت کردار ادا کرنے کی کوشش کی ہے، جس کی ایک مثال امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں سہولت کاری کا کردار ہے۔
سفیر پاکستان نے امریکی سرمایہ کاروں اور کاروباری برادری کو پاکستان میں موجود وسیع معاشی مواقع سے فائدہ اٹھانے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے ہر ممکن سہولیات فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ ان کے مطابق ملک میں توانائی، زراعت، ٹیکنالوجی اور دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع موجود ہیں جن سے فائدہ اٹھا کر دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کو مزید وسعت دی جا سکتی ہے۔
انہوں نے اپنے خطاب میں بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے وژن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے پاکستان کو عالمی سطح پر ایک مرکزی کردار کے طور پر دیکھنے کا خواب دیکھا تھا۔ ان کے مطابق پاکستان اپنے قیام کے بعد سے مختلف چیلنجز کا سامنا کرتا رہا ہے لیکن اس کے باوجود اس نے نہ صرف ان مشکلات پر قابو پایا بلکہ ترقی کی راہ پر بھی گامزن رہا۔
رضوان سعید شیخ نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ پاکستان کو قدرت نے بے شمار وسائل سے نوازا ہے جن میں قدرتی وسائل کے ساتھ ساتھ ایک بڑی نوجوان آبادی بھی شامل ہے۔ ان کے مطابق یہی نوجوان نسل پاکستان کے مستقبل کو روشن بنانے میں اہم کردار ادا کرے گی اور یہی ملک کی سب سے بڑی طاقت ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو آغاز ہی سے متعدد داخلی اور خارجی چیلنجز کا سامنا رہا ہے، تاہم ان چیلنجز کے باوجود ملک نے مختلف شعبوں میں پیش رفت جاری رکھی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کا مستقبل روشن ہے اور یہ ایک مضبوط بنیادوں پر کھڑا ملک ہے جو آنے والے وقت میں مزید ترقی کرے گا۔
دہشت گردی کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے پاکستانی سفیر نے کہا کہ پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جس نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں۔ ان کے مطابق اس جنگ میں پاکستان نے نہ صرف انسانی جانوں کا نقصان برداشت کیا بلکہ معاشی اور سماجی سطح پر بھی بھاری قیمت ادا کی ہے۔ تاہم پاکستان نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ اس خطرے کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گا۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کی کارکردگی کو جانچتے وقت اس کے درپیش چیلنجز اور قربانیوں کو بھی مدنظر رکھا جانا چاہیے تاکہ ایک متوازن اور حقیقت پسندانہ تجزیہ سامنے آ سکے۔
سفیر پاکستان نے اپنے خطاب کے دوران اس اعتماد کا اظہار کیا کہ پاکستان مستقبل میں بھی عالمی امن اور علاقائی استحکام کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔ ان کے مطابق پاکستان کی سفارتی کوششیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ ملک ایک ذمہ دار عالمی کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور دنیا کے ساتھ مثبت تعلقات کو فروغ دینے کے لیے پرعزم ہے۔
