ایوانِ صدر میں منعقد ہونے والی ایک اہم اور تفصیلی مشاورتی نشست میں ملک کی خارجہ پالیسی، خطے میں جاری کشیدگی اور حالیہ سفارتی پیش رفت کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔ اس اجلاس میں صدرِ مملکت آصف علی زرداری اور وزیرِاعظم شہباز شریف نے باہمی طور پر خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال اور عالمی سطح پر اس کے اثرات پر تفصیلی گفتگو کی۔
ملاقات کے دوران وزیرِاعظم نے صدر کو موجودہ سفارتی سرگرمیوں سے متعلق مکمل آگاہی فراہم کی۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی میزبانی میں ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والے مذاکرات ایک اہم سفارتی پیش رفت تھے، جن کا مقصد خطے میں کشیدگی کم کرنا اور فریقین کو ایک مشترکہ لائحہ عمل کی طرف لانا تھا۔ اس عمل کے نتیجے میں وقتی طور پر جنگ بندی کی صورتحال پیدا ہوئی، جسے ایک مثبت پیش رفت قرار دیا گیا۔
وزیرِاعظم نے یہ بھی واضح کیا کہ پاکستان کی دعوت پر دونوں ممالک کے نمائندے اسلام آباد پہنچے، جہاں ان کے درمیان طویل دورانیے کی بات چیت ہوئی جو بیس گھنٹوں سے زیادہ جاری رہی۔ ان مذاکرات میں متعدد نکات پر پیش رفت ضرور ہوئی، تاہم مکمل معاہدہ طے نہ پا سکا اور مزید بات چیت کی ضرورت برقرار رہی۔
گفتگو کے دوران خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پس منظر پر بھی تفصیل سے بات کی گئی۔ فروری کے آخر میں پیدا ہونے والی صورتحال کا حوالہ دیا گیا جب امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کی اہم قیادت اور تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد حالات مزید بگڑ گئے۔ اس کے نتیجے میں مختلف جوابی کارروائیاں سامنے آئیں جنہوں نے نہ صرف جانی نقصان میں اضافہ کیا بلکہ عالمی سطح پر عدم استحکام کو بھی بڑھا دیا، جبکہ تجارتی راستوں اور سمندری گزرگاہوں میں رکاوٹوں نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔
اجلاس میں اس بات کو سراہا گیا کہ پاکستان نے اس نازک موقع پر ذمہ دارانہ کردار ادا کرتے ہوئے فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے میں سہولت کاری فراہم کی۔ اس کردار کو عالمی سطح پر بھی مثبت انداز میں دیکھا گیا اور اسے خطے میں امن کی کوششوں کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا گیا۔
صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے وزیرِاعظم شہباز شریف کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ایک مرتبہ پھر عالمی سطح پر امن کے فروغ میں اپنی صلاحیت ثابت کی ہے۔ انہوں نے اس موقع پر اسحاق ڈار اور سید عاصم منیر سمیت تمام متعلقہ اداروں کی مربوط کوششوں کو بھی قابلِ تعریف قرار دیا۔
اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ مختلف اداروں کے درمیان ہم آہنگی اور مسلسل رابطہ اس پوری سفارتی کوشش کی کامیابی کی بنیادی وجہ رہا، جس سے پاکستان کی بین الاقوامی سطح پر ثالثی کی حیثیت مزید مضبوط ہوئی۔
مزید گفتگو میں یہ بات سامنے آئی کہ پاکستان کی سفارتی حکمت عملی ہمیشہ خطے میں امن اور استحکام کے فروغ پر مرکوز رہی ہے، اور موجودہ اقدامات بھی اسی تسلسل کا حصہ ہیں۔ صدر نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان نے ایک بار پھر یہ ثابت کیا ہے کہ وہ مشکل عالمی حالات میں بھی مثبت کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
آخر میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ وزیرِاعظم اور متعلقہ قیادت آئندہ بھی امریکہ، ایران اور دیگر عالمی و علاقائی قوتوں کے ساتھ رابطے جاری رکھیں گے تاکہ مذاکراتی عمل کو آگے بڑھایا جا سکے اور دیرپا امن کے امکانات کو مضبوط بنایا جا سکے۔
