وزیرِاعظم شہباز شریف جلد ہی ایک اہم تین ملکی سفارتی دورے پر روانہ ہونے والے ہیں، جس کا آغاز سعودی عرب سے کیا جائے گا۔ سفارتی ذرائع کے مطابق یہ دورہ خطے میں بدلتی ہوئی صورتحال، سیکیورٹی خدشات اور جاری عالمی مذاکراتی عمل کے تناظر میں نہایت اہمیت اختیار کر گیا ہے، جہاں پاکستان اپنے قریبی دوست ممالک کے ساتھ مشاورت کو مزید مضبوط بنانے جا رہا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر یہ دورہ صرف سعودی عرب تک محدود سمجھا جا رہا تھا، تاہم بعد ازاں اس میں توسیع کرتے ہوئے قطر اور ترکیہ کو بھی شامل کر لیا گیا ہے۔ اس طرح وزیراعظم پہلے سعودی عرب جائیں گے، پھر قطر کا رخ کریں گے اور آخر میں ترکیہ میں اپنے سفارتی دورے کا اختتام کریں گے، جہاں اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کا سلسلہ متوقع ہے۔
سعودی عرب میں قیام کے دوران وزیراعظم کی ملاقات ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے متوقع ہے، جس میں دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تعلقات، اقتصادی تعاون اور خطے کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی بات چیت کی جائے گی۔ ان ملاقاتوں میں خاص طور پر توانائی، تجارت اور سیکیورٹی تعاون جیسے اہم شعبوں کو زیر بحث لایا جائے گا، تاکہ دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید وسعت دی جا سکے۔
سفارتی ذرائع کے مطابق اس دورے میں صرف دو طرفہ تعلقات ہی نہیں بلکہ وسیع تر علاقائی اور عالمی معاملات بھی زیر غور آئیں گے۔ ان میں مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ کشیدہ صورتحال، آبنائے ہرمز سے متعلق سیکیورٹی خدشات اور ایران و امریکہ کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کی پیش رفت شامل ہے۔
یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ پاکستان خطے میں ایک فعال سفارتی کردار ادا کر رہا ہے، خاص طور پر ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کی کوششوں کے بعد پاکستان کی اہمیت میں اضافہ ہوا ہے۔ اسلام آباد میں ہونے والے حالیہ مذاکراتی عمل کو خطے میں کشیدگی کم کرنے کی ایک کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جہاں دونوں فریقین نے طویل نشستوں میں شرکت کی تھی۔
مذکورہ مذاکرات جو تقریباً اکیس گھنٹے تک جاری رہے، کئی حوالوں سے غیر معمولی سمجھے جا رہے ہیں کیونکہ یہ ایک دہائی سے زائد عرصے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان براہ راست رابطے کی ایک بڑی کوشش تھی۔ یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہوئے جب چند دن قبل ہی خطے میں عارضی جنگ بندی کا آغاز ہوا تھا، جس کا مقصد چھ ہفتوں سے جاری جھڑپوں کو روکنا تھا۔
تاہم ان مذاکرات کے باوجود کوئی حتمی معاہدہ طے نہ پا سکا، جس کے بعد صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی۔ اس کے بعد اطلاعات سامنے آئیں کہ امریکہ کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں اور سمندری راستوں پر نگرانی یا رکاوٹیں بڑھا دی گئی ہیں، جس سے پہلے سے نازک جنگ بندی کے مستقبل پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
سفارتی ذرائع نے یہ بھی بتایا ہے کہ آئندہ دنوں میں امریکہ اور ایران کے مذاکراتی وفود دوبارہ اسلام آباد میں ملاقات کے لیے واپس آ سکتے ہیں، تاکہ تعطل کا شکار بات چیت کو دوبارہ شروع کیا جا سکے اور کسی ممکنہ سمجھوتے کی طرف پیش رفت کی جا سکے۔
وزیراعظم کے آئندہ دورے کو اسی تناظر میں نہایت اہم سمجھا جا رہا ہے، کیونکہ پاکستان نہ صرف خطے میں امن کی کوششوں میں سہولت کار کا کردار ادا کر رہا ہے بلکہ اپنے قریبی دوست ممالک کے ساتھ مشاورت کے ذریعے مستقبل کی حکمت عملی بھی طے کرنا چاہتا ہے۔
قطر اور ترکیہ کے دوروں میں بھی خطے کی صورتحال، توانائی کی سلامتی، اور عالمی سفارتی پیش رفت پر تفصیلی بات چیت متوقع ہے۔ ان ملاقاتوں کا مقصد مشترکہ حکمت عملی کو فروغ دینا اور خطے میں استحکام کے امکانات کو بہتر بنانا بتایا جا رہا ہے۔
سفارتی حلقوں کے مطابق پاکستان کی حالیہ کوششوں نے اسے عالمی منظرنامے میں ایک اہم مقام پر لا کھڑا کیا ہے، جہاں وہ نہ صرف ثالثی کردار ادا کر رہا ہے بلکہ مختلف طاقتوں کے درمیان رابطے کا ایک اہم ذریعہ بھی بنتا جا رہا ہے۔
