پاکستان کی مسلح افواج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق بدھ کے روز ایک اہم سفارتی پیش رفت سامنے آئی، جس کے تحت ملک کی اعلیٰ عسکری قیادت نے خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں فعال کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا۔ اسی سلسلے میں چیف آف ڈیفنس فورسز اور فیلڈ مارشل عاصم منیر ایک اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ ایران کے دارالحکومت تہران پہنچے، جہاں ان کے ہمراہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی بھی موجود تھے۔
یہ دورہ دراصل ان سفارتی کوششوں کا تسلسل ہے جن کا مقصد علاقائی سطح پر پیدا ہونے والی پیچیدہ صورتحال کو مذاکرات اور مفاہمت کے ذریعے حل کرنا ہے۔ ذرائع کے مطابق پاکستان اس معاملے میں ثالثی کا کردار ادا کرتے ہوئے مختلف فریقین کے درمیان اعتماد سازی کو فروغ دینے کی کوشش کر رہا ہے، تاکہ تنازعات کو پرامن طریقے سے نمٹایا جا سکے۔
تہران پہنچنے پر ایرانی حکام کی جانب سے پاکستانی وفد کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔ خاص طور پر ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے خود ایئرپورٹ پر موجود ہو کر وفد کا خیرمقدم کیا، جو دونوں ممالک کے درمیان قریبی سفارتی تعلقات اور باہمی احترام کی عکاسی کرتا ہے۔ اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان جاری روابط، خطے کی مجموعی صورتحال اور امن و استحکام کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال متوقع ہے۔
سفارتی حلقوں کے مطابق یہ دورہ نہ صرف پاکستان کی فعال خارجہ پالیسی کا مظہر ہے بلکہ اس بات کی بھی نشاندہی کرتا ہے کہ اسلام آباد خطے میں امن کے قیام کے لیے سنجیدہ اور عملی اقدامات اٹھا رہا ہے۔ اس اعلیٰ سطحی ملاقات کے دوران اہم علاقائی امور پر مشاورت کے ساتھ ساتھ مستقبل کے لائحہ عمل پر بھی غور کیا جائے گا، تاکہ کشیدگی میں کمی لا کر ایک پائیدار حل کی راہ ہموار کی جا سکے۔
