پاکستان میں قدرتی آفات سے متاثرہ کمزور طبقوں کی مدد کے لیے جاپان نے دو ملین امریکی ڈالر کی نئی مالی امداد فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے، جسے عالمی ادارہ خوراک پروگرام نے خوش آئند قرار دیا ہے۔ یہ امداد ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملک میں مون سون کی تباہ کاریوں، شدید موسمی تبدیلیوں اور دیگر قدرتی خطرات نے لاکھوں افراد کی زندگیوں کو متاثر کیا ہے۔
اس مالی تعاون کے ذریعے عالمی ادارہ خوراک پروگرام کو پاکستان کے مختلف متاثرہ علاقوں میں خوراک کی فراہمی، بحالی کے اقدامات اور معاشی استحکام کے پروگراموں کو آگے بڑھانے میں مدد ملے گی۔ ادارے کے مطابق اس امداد سے تقریباً پینتالیس ہزار افراد کو براہ راست خوراک کی سہولت فراہم کی جائے گی، جبکہ متاثرہ کمیونٹیز کو اپنی روزمرہ زندگی دوبارہ معمول پر لانے کے لیے وسائل بھی میسر آئیں گے۔
جاپان کے سفیر برائے پاکستان اکیاماتسو شوئیچی نے اس موقع پر کہا کہ ان کا ملک پاکستان اور عالمی ادارہ خوراک پروگرام کے ساتھ اپنی طویل المدتی شراکت داری کو بہت اہمیت دیتا ہے۔ ان کے مطابق جاپان کا مقصد صرف فوری امداد فراہم کرنا نہیں بلکہ ایسے اقدامات کی حمایت بھی ہے جو متاثرہ خاندانوں کو دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے میں مدد دیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ قدرتی آفات سے متاثرہ خاندانوں تک بنیادی خوراک کی فراہمی جاپان کی ترجیحات میں شامل ہے، اور اس کے ساتھ ساتھ ایسے منصوبوں کی بھی حمایت کی جا رہی ہے جو کمیونٹیز کو دوبارہ مضبوط اور خود کفیل بنانے میں مدد فراہم کریں۔
دوسری جانب عالمی ادارہ خوراک پروگرام کی پاکستان میں نمائندہ اور کنٹری ڈائریکٹر کوکو اوشی یاما نے جاپان کے تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ امداد نہ صرف فوری ضروریات کو پورا کرتی ہے بلکہ طویل مدتی بحالی کے عمل کو بھی مضبوط بناتی ہے۔ ان کے مطابق ایسے اقدامات متاثرہ خاندانوں کو اپنی کھوئی ہوئی معاشی بنیادیں دوبارہ حاصل کرنے میں مدد دیتے ہیں اور انہیں مستقبل کے خطرات کا مقابلہ کرنے کے قابل بناتے ہیں۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے بڑھتے ہوئے اثرات کے پیش نظر ایسے تعاون انتہائی ضروری ہیں، کیونکہ یہ صرف وقتی ریلیف نہیں بلکہ ایک پائیدار حل کی جانب قدم ہیں جو کمیونٹیز کو بار بار آنے والی آفات کے چکر سے نکالنے میں مدد دے سکتے ہیں۔
پاکستان اس وقت شدید موسمیاتی خطرات کا سامنا کر رہا ہے، جن میں گرمی کی شدید لہریں، خشک سالی، گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے سے پیدا ہونے والے سیلاب اور غیر متوقع بارشیں شامل ہیں۔ حالیہ برسوں میں آنے والے مون سون سیلابوں نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، خاص طور پر 2025 کے سیلابوں نے ملک بھر میں تقریباً 6.9 ملین افراد کو متاثر کیا تھا۔
قومی ادارہ برائے آفات سے نمٹنے کے مطابق 2026 کے مون سون سیزن میں معمول سے 22 سے 26 فیصد زیادہ بارشوں کا امکان ہے، جو بڑے پیمانے پر سیلابی صورتحال کو جنم دے سکتا ہے۔ اس پیش گوئی نے بروقت تیاری اور بین الاقوامی تعاون کی اہمیت کو مزید بڑھا دیا ہے، کیونکہ کمزور علاقوں میں رہنے والے لوگ سب سے زیادہ خطرے کی زد میں ہوتے ہیں۔
جاپان گزشتہ کئی دہائیوں سے عالمی ادارہ خوراک پروگرام کا ایک اہم شراکت دار رہا ہے اور پاکستان میں انسانی ہمدردی کے منصوبوں میں اس کا کردار نمایاں رہا ہے۔ 2022 کے تباہ کن سیلابوں کے بعد سے اب تک جاپان پاکستان میں امدادی سرگرمیوں کے لیے دس ملین ڈالر سے زائد کی مالی معاونت فراہم کر چکا ہے۔
یہ مسلسل تعاون اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ قدرتی آفات کے اثرات سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی شراکت داری کتنی اہم ہے، خاص طور پر ایسے ممالک میں جہاں موسمیاتی خطرات تیزی سے بڑھ رہے ہیں اور متاثرہ آبادی کو فوری اور طویل مدتی دونوں طرح کی مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔
