امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی جانب سے مثبت ردعمل نہ آنے کے باعث مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا مجوزہ دورۂ پاکستان مؤخر کر دیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق جے ڈی وینس کی روانگی منگل کی صبح اسلام آباد کے لیے طے تھی، جہاں بدھ کے روز امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات دوبارہ شروع ہونا تھے، تاہم ایران کی جانب سے واضح جواب نہ ملنے کے باعث یہ عمل فی الحال تعطل کا شکار ہو گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ دورہ مکمل طور پر منسوخ نہیں کیا گیا بلکہ ایران کی جانب سے مثبت اشارہ ملنے کی صورت میں کسی بھی وقت اسے دوبارہ ترتیب دیا جا سکتا ہے۔ امریکی حکام اس بات کے منتظر ہیں کہ آیا ایرانی مذاکرات کاروں کو کسی ممکنہ معاہدے تک پہنچنے کے لیے مکمل اختیارات حاصل ہیں یا نہیں۔
ادھر ایران نے امریکی بیانات اور اقدامات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ مذاکرات کے لیے پاکستان جانے کا حتمی فیصلہ تاحال نہیں ہوا، جبکہ امریکا کی جانب سے متضاد پیغامات اور عملی اقدامات سامنے آ رہے ہیں۔
ایرانی مؤقف کے مطابق امریکا نے جنگ کا آغاز کیا اور اپنے وعدوں کی پاسداری نہیں کی، جبکہ ایرانی بندرگاہوں پر بحری ناکہ بندی کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ ایران ہمیشہ اپنے وعدوں پر قائم رہا ہے۔
دوسری جانب پاکستان کے وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ ایرانی وفد کی اسلام آباد میں مذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت کی تصدیق کا انتظار ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان بطور ثالث دونوں فریقین سے رابطے میں ہے اور ایران کو مذاکرات میں شامل کرنے کے لیے سنجیدہ کوششیں جاری ہیں۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اپنے بیان میں کہا کہ ملک کو ایک کے بجائے کئی طاقتوں کا سامنا ہے اور آنے والے وقت میں عوام کو مشکل چیلنجز کا سامنا ہو سکتا ہے۔ انہوں نے عوام پر زور دیا کہ وہ مشکل حالات میں حکومت کا ساتھ دیں۔
ادھر روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات ہمیشہ خطرات سے خالی نہیں ہوتے، تاہم ایران کا مؤقف مضبوط اور دلیل پر مبنی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران اور امریکا کے درمیان کوئی معاہدہ طے پا جاتا ہے تو یہ ایک بڑی سفارتی کامیابی ہوگی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورتحال میں سفارتی عمل غیر یقینی کا شکار ہے اور جنگ بندی کے خاتمے کے قریب آتے ہی خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ موجود ہے، تاہم پاکستان کی ثالثی کوششیں اس بحران کے حل میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں

Add A Comment