اسلام آباد: چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججوں کے تبادلے سے متعلق کمیشن کا اجلاس بلانے کی غیر رسمی درخواست مسترد کر دی ہے۔
چیف جسٹس نے چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کو تحریری جواب میں واضح کیا کہ ججوں کے تبادلے کے لیے کمیشن اجلاس بلانے کی درخواست قابلِ قبول نہیں، کیونکہ بغیر واضح وجہ کے تبادلہ کسی جج کو سزا دینے کے مترادف ہو سکتا ہے، اس لیے کسی مخصوص مقصد کے لیے جوڈیشل کمیشن کا اجلاس بلانا ممکن نہیں۔
اپنے خط میں انہوں نے مزید کہا کہ سندھ سے تعلق رکھنے والے ججوں کی واپسی وفاقی توازن کو متاثر کرے گی اور ہائیکورٹ میں صوبوں کی نمائندگی کمزور ہو جائے گی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ 9 میں سے 5 ججوں کے تبادلے سے عدالتی نظام بھی متاثر ہو سکتا ہے۔
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کے مطابق متعدد آسامیوں کے خالی ہونے سے عدالتی غیر یقینی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے، جبکہ ججوں کے تبادلے کے لیے کوئی واضح ادارہ جاتی ضرورت بھی بیان نہیں کی گئی۔
خط میں کہا گیا کہ آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت ہی کسی جج کے خلاف کارروائی ممکن ہے، جبکہ انتظامی بنیادوں پر ججوں کے تبادلے آئین کے منافی ہوں گے اور اس سے عدلیہ کی آزادی اور خودمختاری متاثر ہو سکتی ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ججوں کو قابلِ تبادلہ انتظامی افسر سمجھنا ایک خطرناک رجحان ہے، جو عدالتی نظام کی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔
خط کے مطابق جوڈیشل کمیشن کا اجلاس بلانے کا اختیار سیکرٹری کے پاس ہے، اور 7 اپریل 2026 کو ایک تہائی ارکان کی جانب سے اجلاس طلب کرنے کی درخواست موصول ہو چکی ہے، جس کے تحت آئین کے آرٹیکل 175 اے کے مطابق اجلاس بلایا جا سکتا ہے، تاہم اس کے لیے وجوہات تمام ارکان کو فراہم کرنا ضروری ہوگا۔
