پنجاب میں آئندہ دنوں کے دوران شدید گرمی کی لہر کے خدشے کے پیش نظر صوبائی سطح پر ہیٹ ویو الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔ محکمہ قدرتی آفات پنجاب کے مطابق درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافہ متوقع ہے، جبکہ جنوبی اضلاع میں حالات انتہائی شدید صورت اختیار کر سکتے ہیں جہاں درجہ حرارت بعض اوقات 52 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
محکمہ کے جاری کردہ انتباہ میں بتایا گیا ہے کہ مئی اور جون صوبے کے سب سے گرم مہینے تصور کیے جاتے ہیں، تاہم اس سال درجہ حرارت معمول سے زیادہ رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ عمومی طور پر پنجاب کے بیشتر علاقوں میں درجہ حرارت 43 سے 45 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان رہتا ہے، لیکن ہیٹ ویو کے دوران اس میں نمایاں اضافہ ہو جاتا ہے، جس سے شہری زندگی متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔
حالیہ دنوں میں کیے گئے موسمی مشاہدات کے مطابق صوبے کے مختلف علاقوں میں درجہ حرارت پہلے ہی معمول سے 2 سے 4 ڈگری زیادہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ گرم موسم کا آغاز وقت سے پہلے اور زیادہ شدت کے ساتھ ہو رہا ہے۔
محکمہ موسمیات اور متعلقہ اداروں کے مطابق جنوبی پنجاب آئندہ دنوں میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والا خطہ ہوگا۔ 29 اپریل سے 3 مئی تک اس علاقے میں ہلکی مگر واضح ہیٹ ویو کے اثرات متوقع ہیں، جس کے دوران گرمی کی شدت میں اضافہ ہوگا اور معمولات زندگی متاثر ہو سکتے ہیں۔ دوسری جانب شمالی اور بالائی علاقوں میں کچھ وقتی ریلیف بھی متوقع ہے۔
یہ ریلیف مغربی ہواؤں کے ایک سسٹم کے باعث ممکن ہوگا جو 27 اپریل کی رات سے 29 اپریل تک اور پھر 3 سے 5 مئی کے دوران صوبے کے بالائی حصوں کو متاثر کر سکتا ہے۔ اس دوران درجہ حرارت میں 2 سے 4 ڈگری تک کمی آنے کا امکان ہے، تاہم یہ کمی عارضی ہوگی اور مجموعی طور پر گرمی کی شدت برقرار رہے گی۔
محکمہ قدرتی آفات نے واضح کیا ہے کہ جنوبی پنجاب اپنی جغرافیائی صورتحال کے باعث ہمیشہ شدید گرمی کے اثرات کی زد میں رہتا ہے۔ اس سال بھی توقع ہے کہ اس خطے میں سب سے زیادہ درجہ حرارت ریکارڈ کیا جائے گا، جس سے عوامی مشکلات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے عمر جاوید نے عوام کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔ ان کے مطابق بچوں، بزرگوں اور خواتین کو خصوصی احتیاط کرنی چاہیے اور غیر ضروری طور پر دھوپ میں نکلنے سے گریز کرنا چاہیے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ پانی کا زیادہ استعمال کیا جائے تاکہ ہیٹ اسٹروک اور پانی کی کمی جیسے خطرات سے بچا جا سکے۔
کسانوں کو بھی مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ موسمی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی زرعی سرگرمیوں کو منظم کریں۔ فصلوں اور مویشیوں کو شدید گرمی سے بچانے کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں تاکہ نقصان سے محفوظ رہا جا سکے۔
صوبائی سطح پر تمام متعلقہ اداروں اور ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ ہدایت دی گئی ہے کہ ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آپریشن سینٹرز میں عملہ چوبیس گھنٹے موجود رہے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل تیاری رکھی جائے۔
ریسکیو اداروں کو بھی الرٹ کر دیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں فوری مدد فراہم کی جا سکے۔ موٹروے پولیس کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ سفر کرنے والوں کے لیے بروقت موسمی معلومات فراہم کریں اور ضرورت پڑنے پر مدد بھی یقینی بنائیں۔
عوام تک معلومات کی بروقت ترسیل کے لیے میڈیا چینلز اور سوشل پلیٹ فارمز کے ذریعے آگاہی مہم چلانے پر بھی زور دیا گیا ہے تاکہ لوگ موسمی تبدیلیوں سے باخبر رہ سکیں۔
محکمہ موسمیات کے مطابق اس وقت ملک کے بیشتر علاقوں میں خشک اور گرم ہوائیں چل رہی ہیں جو درجہ حرارت میں اضافے کا سبب بن رہی ہیں۔ تاہم بعض مقامات پر آئندہ دو روز کے دوران ہلکی بارش یا گرد آلود ہوائیں بھی چل سکتی ہیں، خاص طور پر شام اور رات کے وقت۔
حکام نے شہریوں کو تاکید کی ہے کہ وہ سرکاری ذرائع سے جاری ہونے والی معلومات پر عمل کریں اور کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں فوری طور پر متعلقہ ہیلپ لائن سے رابطہ کریں۔
