پنجاب میں فلمی صنعت کی بحالی اور اسے بین الاقوامی معیار تک لے جانے کے لیے صوبائی حکومت نے ایک بڑا اور جامع منصوبہ تیار کیا ہے، جس کے تحت لاہور میں ایک جدید فلمی شہر قائم کیا جائے گا۔ یہ منصوبہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے وژن کا حصہ ہے، جس کا مقصد صوبے کو نہ صرف ثقافتی اور تخلیقی میدان میں آگے لے جانا ہے بلکہ نوجوانوں کے لیے روزگار کے وسیع مواقع بھی پیدا کرنا ہے۔
اس منصوبے کے تحت لاہور میں تقریباً پچاس ایکڑ پر مشتمل ایک خصوصی فلم نگری بسائی جائے گی، جہاں فلم، ٹی وی، اور ڈیجیٹل میڈیا سے متعلق تمام جدید سہولیات موجود ہوں گی۔ حکومتی مؤقف کے مطابق اس منصوبے سے پاکستان کو عالمی سطح پر ایک نئی فلمی شناخت ملے گی اور اسے تخلیقی صنعت کے ایک اہم مرکز کے طور پر متعارف کرایا جا سکے گا۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے اس اقدام کو صوبے کے ثقافتی اور معاشی مستقبل کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ منصوبہ نوجوان نسل کے لیے روزگار کے دروازے کھولے گا۔ ان کے مطابق اس فلمی شہر کے قیام سے ہزاروں نوجوانوں، خصوصاً لڑکوں اور لڑکیوں کو فلم انڈسٹری میں کام کرنے کے مواقع میسر آئیں گے، جس سے مقامی ٹیلنٹ کو بھرپور انداز میں اجاگر کیا جا سکے گا۔
ابتدائی دور میں لاہور کو باغوں کا شہر کہا جاتا تھا، بعد ازاں تعلیمی اداروں میں اضافے کے باعث یہ شہر کالجوں کے مرکز کے طور پر پہچانا جانے لگا۔ اب حکومتی سطح پر اسے ایک نئی شناخت دینے کی کوشش کی جا رہی ہے، جس کے تحت اسے فلم اور تخلیقی صنعت کا مرکز بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ یہ تبدیلی اس وقت سامنے آئی ہے جب ڈیجیٹل میڈیا کے بڑھتے ہوئے اثرات کے باعث روایتی سینما اور تھیٹر کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
گزشتہ چند برسوں میں معاشی دباؤ، مہنگائی اور توانائی کے مسائل کے باعث تفریحی صنعت خاص طور پر متاثر ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ سوشل میڈیا اور اسٹریمنگ پلیٹ فارمز کے بڑھتے ہوئے استعمال نے بھی سینما گھروں اور تھیٹرز کی رونق کم کر دی ہے۔ عوام کی بڑی تعداد سستی اور آسان تفریحی ذرائع کی طرف منتقل ہو گئی ہے، جس کے نتیجے میں مقامی فلم انڈسٹری کو نقصان پہنچا ہے۔
ان حالات کے پیش نظر حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ ایک جدید فلمی شہر قائم کیا جائے جو نہ صرف عالمی معیار کے اسٹوڈیوز پر مشتمل ہو بلکہ وہاں جدید پروڈکشن لیبز بھی قائم کی جائیں۔ اس کے علاوہ اس منصوبے میں ایک خوبصورت جھیل، بڑا کنونشن ہال اور بین الاقوامی ایوارڈ تقریبات کے انعقاد کے لیے خصوصی انتظامات بھی شامل ہیں۔
مزید برآں اس فلم نگری کے اندر ایک میوزک اسکول بھی قائم کیا جائے گا جہاں نوجوانوں کو موسیقی، گلوکاری اور دیگر فنون کی باقاعدہ تربیت دی جائے گی۔ اس اقدام کا مقصد یہ ہے کہ فنونِ لطیفہ کو فروغ دیا جائے اور نئی نسل کو تخلیقی صلاحیتوں کے اظہار کے بہتر مواقع فراہم کیے جائیں۔
وزیراعلیٰ مریم نواز کے مطابق اس منصوبے کی تیاری میں فلم انڈسٹری کے مختلف اسٹیک ہولڈرز، جن میں ہدایتکار، اداکار اور پروڈیوسرز شامل ہیں، کو اعتماد میں لیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس فلمی شہر کو مکمل طور پر خودمختار انداز میں چلایا جائے گا تاکہ تخلیقی آزادی کو یقینی بنایا جا سکے اور کسی قسم کی غیر ضروری مداخلت نہ ہو۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ یہ منصوبہ نہ صرف مقامی سطح پر انڈسٹری کو بحال کرے گا بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی پاکستان کی ساکھ کو بہتر بنائے گا۔ ان کے مطابق اس فلم نگری کے ذریعے پاکستان خاص طور پر پنجاب دنیا بھر میں ایک تخلیقی مرکز کے طور پر پہچانا جائے گا۔
حکومتی منصوبے کے مطابق اس فلمی شہر میں جدید انفراسٹرکچر، ٹیکنالوجی سے لیس سہولیات اور عالمی معیار کی پروڈکشن کی صلاحیت موجود ہوگی۔ اس کے ذریعے نہ صرف فلم سازی کو فروغ ملے گا بلکہ ثقافتی سرگرمیوں اور تخلیقی معیشت کو بھی نئی زندگی ملے گی۔
یہ منصوبہ پنجاب میں ثقافتی انقلاب کی ایک نئی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس کا مقصد نوجوانوں کو بااختیار بنانا، فنکارانہ صلاحیتوں کو نکھارنا اور صوبے کو عالمی تخلیقی نقشے پر نمایاں مقام دلانا ہے۔
