پاکستان میں رہائشی مسائل کے حل کی جانب ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے وزیر اعظم نے ایک جامع ہاؤسنگ پروگرام کا باضابطہ آغاز کر دیا ہے، جس کا مقصد عام شہریوں کو اپنی چھت فراہم کرنا اور کم آمدنی والے طبقات کے لیے گھر کی ملکیت کو ممکن بنانا ہے۔ اس منصوبے کو نہ صرف حکومتی سطح پر ترجیح دی جا رہی ہے بلکہ وزیر اعظم نے خود اس کی نگرانی کرنے کا بھی اعلان کیا ہے، جس سے اس کی اہمیت اور سنجیدگی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
اس منصوبے کے تحت شہریوں کو آسان شرائط پر گھروں کی تعمیر کے لیے قرض فراہم کیا جائے گا، جس کی حد ایک کروڑ روپے تک رکھی گئی ہے۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ یہ سہولت ملک کے تمام حصوں میں دستیاب ہوگی، جن میں چاروں صوبے، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر شامل ہیں۔ اس طرح یہ پروگرام ایک قومی سطح کی اسکیم کے طور پر متعارف کرایا گیا ہے، جس کا دائرہ کار وسیع اور ہمہ گیر ہے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ ملک میں ایک بڑی تعداد ایسے افراد کی ہے جو اب تک اپنے گھر سے محروم ہیں۔ ان کے مطابق ہر شہری کو چھت فراہم کرنا ریاست کی بنیادی ذمہ داریوں میں شامل ہے اور اسی تصور کے تحت یہ اسکیم تشکیل دی گئی ہے۔ انہوں نے اس منصوبے کو ایک سماجی اور اخلاقی فریضہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت اس معاملے میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کرے گی۔
حکومت نے اس منصوبے کے لیے ایک بڑا مالیاتی فریم ورک بھی تیار کیا ہے۔ اس اسکیم کے تحت مجموعی طور پر 3.2 کھرب روپے کا حجم مقرر کیا گیا ہے، جبکہ ابتدائی مرحلے میں 321 ارب روپے کی فنانسنگ مختص کی گئی ہے۔ اس سرمایہ کاری کا مقصد نہ صرف گھروں کی تعمیر کو فروغ دینا ہے بلکہ معیشت میں سرگرمیوں کو بڑھانا اور روزگار کے مواقع پیدا کرنا بھی ہے۔
منصوبے کے اہداف بھی واضح طور پر متعین کیے گئے ہیں۔ پہلے مرحلے میں 50 ہزار گھروں کی تعمیر کے لیے قرض فراہم کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے، جبکہ آئندہ چار برسوں کے دوران اس تعداد کو بڑھا کر پانچ لاکھ گھروں تک لے جانے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ اس طرح یہ اسکیم طویل المدتی بنیادوں پر ملک کے ہاؤسنگ سیکٹر میں ایک بڑی تبدیلی لانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
وزیر اعظم نے بینکنگ سیکٹر کو بھی اس منصوبے میں بھرپور کردار ادا کرنے کی ہدایت دی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ تمام مالیاتی ادارے قانون کے مطابق شہریوں کو قرض فراہم کریں اور کسی قسم کی غفلت یا تاخیر کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جو بینک اس قومی منصوبے میں حصہ نہیں لیں گے، ان کے لیے مستقبل میں مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے اس بات کا بھی اعلان کیا کہ وہ خود ہر ماہ اس اسکیم کی پیش رفت کا جائزہ لیں گے تاکہ شفافیت اور کارکردگی کو یقینی بنایا جا سکے۔
اس اسکیم کی ایک اور اہم خصوصیت یہ ہے کہ اس کے تحت 10 مرلے تک کے گھروں کی تعمیر کی اجازت دی جائے گی، جس سے متوسط اور کم آمدنی والے خاندانوں کو اپنی ضروریات کے مطابق رہائش حاصل کرنے میں آسانی ہوگی۔ آسان شرائط پر قرض کی فراہمی اس بات کو یقینی بنائے گی کہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں۔
ماہرین کے مطابق اس طرح کے ہاؤسنگ منصوبے نہ صرف سماجی مسائل کو حل کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں بلکہ معیشت کے مختلف شعبوں کو بھی متحرک کرتے ہیں۔ تعمیراتی صنعت، سیمنٹ، اسٹیل، اور دیگر متعلقہ شعبے اس سے براہ راست مستفید ہوتے ہیں، جس کے نتیجے میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوتے ہیں اور مجموعی معاشی سرگرمی میں اضافہ ہوتا ہے۔
وزیر اعظم نے اپنے خطاب میں اس امید کا اظہار بھی کیا کہ یہ منصوبہ ملک کے لاکھوں خاندانوں کے لیے ایک نئی شروعات ثابت ہوگا۔ انہوں نے ان افراد کو مبارکباد دی جو اس اسکیم کے ذریعے اپنے گھر کے خواب کو حقیقت میں بدلنے کے قریب پہنچیں گے، اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت عام آدمی کی فلاح و بہبود کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔
یہ اقدام اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ حکومت رہائشی مسائل کے حل کو اپنی ترجیحات میں شامل کیے ہوئے ہے اور اس مقصد کے لیے عملی اقدامات اٹھا رہی ہے تاکہ ہر شہری کو باعزت اور محفوظ رہائش فراہم کی جا سکے۔
