اسلام آباد: اويس لغاری نے اعلان کیا ہےکہ ملک بھر میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کا سلسلہ ختم کر دیا گیا ہے اورصورتحال بتدریج معمول پرآرہی ہے۔
اپنے ویڈیو پیغام میں وفاقی وزیر برائے توانائی نے بتایا کہ ملک کو ایل این جی کی نئی سپلائی موصول ہو چکی ہے جبکہ پن بجلی کی پیداوار بڑھ کر 6 ہزار میگاواٹ تک پہنچ گئی ہے، جس کے باعث بجلی کی فراہمی میں نمایاں بہتری آئی ہے۔انہوں نے یاد دلایا کہ گزشتہ تقریباً 15 روز سے جاری بجلی بحران کی بنیادی وجہ کسی تکنیکی خرابی یا پیداواری کمی نہیں بلکہ گیس کی قلت تھی۔ ان کے مطابق عالمی حالات، خصوصاً امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے باعث ایل این جی سپلائی متاثر ہوئی، جس سے بجلی کی پیداوار کم ہو گئی۔
اويس لغاری نے کہا کہ اگر حکومت ڈیزل یا فرنس آئل کے ذریعے مکمل بجلی پیدا کرتی تو اس کی لاگت بہت زیادہ ہوتی اور اس کا بوجھ براہ راست عوام پر پڑتا، اسی لیے ایک متوازن حکمت عملی اختیار کی گئی تاکہ صارفین کو مہنگی بجلی سے بچایا جا سکے۔انہوں نے ایک اہم وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی مجموعی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت 46 ہزار میگاواٹ نہیں بلکہ تقریباً 32 ہزار میگاواٹ ہے، اور اس حوالے سے عوام میں غلط فہمیاں پائی جا رہی تھیں۔
وزیر توانائی نے یقین دہانی کرائی کہ حکومت بجلی کی قیمتوں میں ممکنہ اضافے سے عوام کو بچانے کے لیے اقدامات جاری رکھے گی۔واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں ملک بھر کے صارفین روزانہ 10 گھنٹے تک لوڈشیڈنگ کی شکایات کر رہے تھے، جبکہ پاور ڈویژن کے مطابق اس دوران ملک کو 4 ہزار میگاواٹ سے زائد شارٹ فال کا سامنا تھا۔ پن بجلی کی کم پیداوار اور ایل این جی کی عدم دستیابی کے باعث شام کے اوقات میں لوڈ مینجمنٹ کا دورانیہ بھی بڑھانا پڑا تھا۔
ماہرین کے مطابق ایل این جی کی بحالی اور پن بجلی میں اضافے سے نہ صرف لوڈشیڈنگ کا خاتمہ ممکن ہوا بلکہ آئندہ دنوں میں بجلی کی فراہمی مزید مستحکم ہونے کا امکان بھی ہے۔
