وزیرِاعظم شہباز شریف نے عراق کے نو منتخب وزیرِاعظم علی الزیدی کو منصب سنبھالنے پر مبارکباد دیتے ہوئے ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ نئی عراقی قیادت کے دور میں پاکستان اور عراق کے تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے پیغام میں وزیرِاعظم نے علی الزیدی کو ان کے نئے عہدے کی ذمہ داری سنبھالنے پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے انہیں "بھائی” کے الفاظ سے مخاطب کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ عہدہ انتہائی اہم ذمہ داریوں کا حامل ہے اور وہ امید کرتے ہیں کہ نئی قیادت عراق کی ترقی اور استحکام کے لیے مؤثر کردار ادا کرے گی۔
شہباز شریف نے اپنے بیان میں پاکستان اور عراق کے درمیان دیرینہ تعلقات کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو مزید وسعت دینے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق پاکستان نئی عراقی حکومت کے ساتھ قریبی تعاون کا خواہاں ہے تاکہ دوطرفہ تعلقات کو مختلف شعبوں میں مزید فروغ دیا جا سکے۔
وزیرِاعظم نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان اور عراق کے درمیان تاریخی، ثقافتی اور مذہبی روابط موجود ہیں جو دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے مزید قریب لاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان مشترکہ بنیادوں کو بروئے کار لاتے ہوئے تعلقات کو نئی سمت دی جا سکتی ہے اور خطے میں استحکام اور خوشحالی کے لیے مشترکہ کوششیں کی جا سکتی ہیں۔
اپنے پیغام میں شہباز شریف نے یہ بھی کہا کہ پاکستان خطے میں امن، ترقی اور استحکام کے مشترکہ اہداف کے حصول کے لیے عراق کے ساتھ مل کر کام کرنے کا خواہاں ہے۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان مضبوط تعاون نہ صرف عوام کے لیے فائدہ مند ہوگا بلکہ پورے خطے میں مثبت اثرات مرتب کرے گا۔
دوسری جانب عراق کی نئی قیادت کے حوالے سے بین الاقوامی سطح پر بھی ردعمل سامنے آیا ہے۔ امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی عراق کے نامزد وزیرِاعظم علی الزیدی کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی علی الزیدی سے بات ہوئی ہے اور انہوں نے انہیں مکمل حمایت کا یقین دلایا ہے۔
ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ انہوں نے انتخابی عمل کے دوران بھی اس قیادت کی حمایت کی تھی اور انہیں امید ہے کہ نئی عراقی حکومت کامیابی سے اپنی ذمہ داریاں نبھائے گی۔ ان کے مطابق امریکہ اس نئی قیادت کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا اور عراق کے استحکام کے لیے مثبت کردار ادا کرے گا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ عراق میں قیادت کی تبدیلی ایک اہم پیش رفت ہے اور امریکہ خطے میں استحکام کو اپنی ترجیحات میں شامل رکھتا ہے۔ ان کے مطابق مضبوط قیادت عراق کی ترقی کے لیے ضروری ہے اور امریکہ اس عمل میں تعاون جاری رکھے گا۔
پاکستان اور امریکہ دونوں کی جانب سے سامنے آنے والے بیانات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ عراق کی نئی حکومت عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ ایک طرف پاکستان نے سفارتی تعلقات کو مضبوط بنانے اور تعاون بڑھانے پر زور دیا ہے، جبکہ دوسری طرف امریکہ نے سیاسی حمایت اور خطے میں استحکام کے حوالے سے اپنی پالیسی واضح کی ہے۔
اس نئی سیاسی صورتحال میں عراق کی حکومت پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اندرونی استحکام، معاشی ترقی اور عالمی تعلقات کے حوالے سے متوازن پالیسی اختیار کرے۔ مختلف ممالک کی جانب سے ملنے والی مبارکبادیں اور حمایت اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ نئی قیادت سے بڑی توقعات وابستہ ہیں۔
