اسلام آباد: پاکستان میں دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں اچانک اور نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس کے بعد زرعی اور آبی ماہرین نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے صورتحال کو سنگین قرار دیا ہے۔ ابتدائی سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پانی کا بہاؤ 20 ہزار 930 کیوسک سے کم ہو کر صرف 9 ہزار 37 کیوسک رہ گیا ہے، یعنی 11 ہزار 893 کیوسک کی بڑی کمی واقع ہوئی ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ کمی مبینہ طور پر بگلیہار ڈیم میں پانی ذخیرہ کرنے کے عمل کے باعث ہوئی ہے، جس سے پاکستان کے زیریں علاقوں میں پانی کی ترسیل متاثر ہوئی ہے۔
پاکستانی حکام نے صورتحال پر فوری الرٹ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ تبدیلی مقبوضہ کشمیر کے بالائی علاقوں میں پانی کے کنٹرول اور ریگولیشن کے نتیجے میں پیدا ہوئی ہے، جو سندھ طاس معاہدہ کی ممکنہ خلاف ورزی کے زمرے میں آ سکتی ہے۔
سید علی شاہ (انڈس واٹر کمشنر) نے بھارتی ہم منصب سے تفصیلات طلب کر لی ہیں اور اس معاملے پر باضابطہ رابطہ کیا جا رہا ہے۔
حکام کے مطابق پانی میں یہ کمی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پنجاب میں خریف کی فصلوں کی بوائی کا عمل جاری ہے۔ کسان اس وقت کپاس کی کاشت، چاول کی پنیری اور دیگر فصلوں کی تیاری میں مصروف ہیں، جبکہ پانی کی دستیابی ان سرگرمیوں کے لیے انتہائی اہم ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر دریا کے بہاؤ میں اتار چڑھاؤ اسی طرح جاری رہا تو زرعی پیداوار متاثر ہونے کا خدشہ ہے اور صوبہ پنجاب میں فصلوں کی پیداوار پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
پاکستانی حکام نے اس صورتحال کو سنجیدہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پانی کی اچانک کمی نہ صرف زرعی نظام بلکہ مجموعی آبی انتظام کے لیے بھی ایک چیلنج ہے، اور اس معاملے کو سفارتی سطح پر اٹھایا جا رہا ہے۔
