امریکہ کی ریاست میری لینڈ کے علاقے نیشنل ہاربر میں ایک اہم بین الاقوامی سرمایہ کاری پلیٹ فارم “سیلیکٹ یو ایس اے انویسٹمنٹ سمٹ” کا آغاز ہو چکا ہے، جس میں پاکستان سے 16 کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں پر مشتمل ایک اعلیٰ سطحی وفد بھی شریک ہے۔ یہ وفد امریکی منڈی میں نئے تجارتی مواقع تلاش کرنے، سرمایہ کاری کے امکانات جانچنے اور عالمی کاروباری نیٹ ورک کو وسعت دینے کے لیے اس ایونٹ میں حصہ لے رہا ہے۔
یہ عالمی کانفرنس 3 مئی کو شروع ہوئی تھی اور 6 مئی تک جاری رہے گی۔ اسے امریکہ میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے سب سے بڑا اور مؤثر پلیٹ فارم سمجھا جاتا ہے۔ اس سمٹ میں دنیا بھر سے ہزاروں سرمایہ کار، کمپنیوں کے نمائندے، معاشی ترقیاتی ادارے اور ماہرین شریک ہوتے ہیں، جو مختلف شعبوں میں کاروباری مواقع پر تبادلہ خیال کرتے ہیں۔
منتظمین کے مطابق اس سال اس ایونٹ میں تقریباً 6000 افراد کی شرکت متوقع ہے، جن میں تقریباً 3000 سرمایہ کار 100 سے زائد ممالک کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ اس بڑے پیمانے کی شرکت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ یہ فورم عالمی سرمایہ کاری کے لیے ایک مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔
پاکستانی وفد کی شرکت کو خاص اہمیت دی جا رہی ہے کیونکہ یہ کاروباری رہنما امریکی کمپنیوں اور سرمایہ کاروں کے ساتھ براہ راست رابطے قائم کر کے نئے تجارتی مواقع تلاش کرنے کے خواہشمند ہیں۔ ان کا مقصد نہ صرف اپنی کاروباری سرگرمیوں کو وسعت دینا ہے بلکہ بین الاقوامی سطح پر شراکت داری کے نئے راستے بھی کھولنا ہے۔
امریکی ناظم الامور نٹالی اے بیکر نے ایک ویڈیو پیغام کے ذریعے پاکستانی وفد کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے اس سمٹ کو امریکہ میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے ایک نمایاں اور مؤثر پلیٹ فارم قرار دیا۔ ان کے مطابق یہ ایونٹ سرمایہ کاروں کو براہ راست امریکی کاروباری رہنماؤں اور معاشی اداروں سے جوڑتا ہے تاکہ وہ مختلف ریاستوں میں موجود سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھا سکیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ کانفرنس صرف ایک رسمی اجلاس نہیں بلکہ ایک ایسا دروازہ ہے جو بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو امریکی معیشت سے براہ راست جوڑتا ہے۔ اس پلیٹ فارم کے ذریعے مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری، جدت اور نجی شعبے کے تعاون کے نئے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔
نٹالی بیکر نے پاکستان اور امریکہ کے درمیان اقتصادی تعلقات کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان مضبوط معاشی روابط دوطرفہ تعلقات کی بنیاد ہیں۔ ان کے مطابق سرمایہ کاری، جدت اور نجی شعبے کے تعاون کو فروغ دے کر نہ صرف روزگار کے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں بلکہ دونوں ممالک کے لیے طویل مدتی معاشی خوشحالی بھی ممکن ہے۔
انہوں نے پاکستانی سرمایہ کاروں کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ پاکستانی کاروباری شخصیات امریکہ میں اپنی سرمایہ کاری کا دائرہ وسیع کریں اور عالمی منڈی میں مزید مضبوط کردار ادا کریں۔
دوسری جانب حالیہ مہینوں میں پاکستان اور امریکہ کے درمیان اقتصادی تعاون میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ پاکستان کی وزارت خزانہ کے مطابق دونوں ممالک نے مختلف اہم شعبوں میں سرمایہ کاری اور تجارتی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ ان شعبوں میں انفارمیشن ٹیکنالوجی، کان کنی، معدنی وسائل اور توانائی شامل ہیں۔
اس سلسلے میں پاکستان کے وزیر خزانہ نے واشنگٹن میں امریکی وزیر تجارت ہاورڈ لٹنک سے ملاقات بھی کی، جس میں دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کو فروغ دینے اور سرمایہ کاری کے مواقع بڑھانے پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ اس ملاقات میں بڑے پیمانے پر مشترکہ منصوبوں اور اقتصادی تعاون کے امکانات پر بھی غور کیا گیا۔
سیلیکٹ یو ایس اے سمٹ میں پاکستانی وفد کی شرکت کو اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی سمجھا جا رہا ہے، جس کا مقصد عالمی سرمایہ کاروں کے ساتھ روابط مضبوط کرنا اور پاکستان کی کاروباری صلاحیتوں کو اجاگر کرنا ہے۔ اس موقع پر پاکستانی سرمایہ کار امریکی کمپنیوں اور معاشی اداروں کے ساتھ ملاقاتیں، مباحثے اور نیٹ ورکنگ سیشنز میں حصہ لے رہے ہیں۔
یہ پلیٹ فارم انہیں نہ صرف امریکی کاروباری ماحول کو سمجھنے کا موقع فراہم کر رہا ہے بلکہ مختلف ریاستوں کی سرمایہ کاری پالیسیوں، سہولیات اور مواقع سے آگاہی بھی دے رہا ہے۔ اس کے ذریعے وہ اپنی کاروباری حکمت عملی کو مزید مؤثر بنا سکتے ہیں۔
یہ سمٹ پاکستان اور امریکہ کے درمیان معاشی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے، سرمایہ کاری کے نئے دروازے کھولنے اور عالمی سطح پر کاروباری تعاون کو فروغ دینے کے لیے ایک اہم موقع فراہم کر رہی ہے۔
