ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ پاکستان کی کوششوں کے باعث مذاکراتی عمل میں پیش رفت ہو رہی ہے اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی اقدامات مؤثر ثابت ہو رہے ہیں۔
اپنے بیان میں عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز میں حالیہ واقعات نے یہ واضح کر دیا ہے کہ کسی بھی سیاسی بحران کا حل فوجی کارروائی نہیں ہوتا۔ انہوں نے امریکا کو خبردار کیا کہ وہ کسی کے کہنے پر دوبارہ جنگ کے دلدل میں نہ پھنسے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکا کو ان عناصر سے محتاط رہنا چاہیے جو اسے ایک بار پھر تنازع میں دھکیلنا چاہتے ہیں، جبکہ متحدہ عرب امارات کو بھی محتاط رہنے کا مشورہ دیا۔ ان کے مطابق ’’پراجیکٹ فریڈم‘‘ دراصل ایک تعطل کا منصوبہ بن چکا ہے جو مسائل کے حل کے بجائے پیچیدگیاں بڑھا رہا ہے۔
دوسری جانب ایرانی ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی افواج نے دو سویلین کشتیوں کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں پانچ شہری جاں بحق ہوئے۔ تاہم اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق سامنے نہیں آئی۔

Add A Comment