دمشق:جنگ سے چور، ملبے میں ڈھکے شہر دمشق کی فضاؤں میں اب ایک نئی صبح کا آغاز ہو رہا ہے۔ برسوں کی بربادی، ویرانی اور مایوسی کے بعد شام کی فضاؤں میں امید، ترقی اور دوستی کی خوشبو پھر سے بکھرنے لگی ہے۔ اور اس نئی زندگی کی کرن بن کر اُبھر رہا ہے سعودی عرب جس نے شام کی تعمیر نو کے لیے ایک ایسا جرات مندانہ اور تاریخی اقدام اٹھایا ہے جو عرب دنیا میں معاشی، انسانی اور سفارتی تعاون کی روشن مثال بن چکا ہے۔
سعودی وزیر سرمایہ کاری انجینیئر خالد الفالح کی قیادت میں 130 سے زائد تاجر، صنعت کار، اور سرکاری نمائندوں پر مشتمل ایک اعلیٰ سطحی وفد دمشق پہنچا۔ ان کا پیغام واضح تھا یہ صرف سرمایہ کاری نہیں، بھائی چارے کی بحالی ہے۔
دمشق میں منعقد ہونے والے سعودی شامی سرمایہ کاری فورم کے دوران 6 ارب ڈالر مالیت کے 44 بڑے معاہدوں پر دستخط کیے گئے۔ ان معاہدوں کا دائرہ کار رئیل اسٹیٹ، انفراسٹرکچر، ٹرانسپورٹ، سیاحت، توانائی، انفارمیشن ٹیکنالوجی، لاجسٹکس اور شہری ہوا بازی جیسے اسٹریٹیجک شعبوں پر محیط ہے، جو شام کی معیشت میں ایک نیا انقلاب برپا کرنے کی بنیاد رکھے گا۔
صرف یہی نہیں، سعودی وزیر سرمایہ کاری نے دمشق میں 32 منزلہ الجوہرا ٹاور کا سنگِ بنیاد بھی رکھا، جو تعمیر مکمل ہونے پر شام کی بلند ترین عمارت ہوگی۔ اس عظیم الشان منصوبے پر 100 ملین ڈالر لاگت آئے گی، جس کی مکمل سرمایہ کاری سعودی عرب کرے گا۔
یہ اقدامات صرف معاشی بحالی کی علامت نہیں، بلکہ ایک گہرا سیاسی اور انسانی پیغام بھی ہیں۔ وفد نے شامی صدر احمد الشرع سے بھی ملاقات کی، جس میں دونوں ممالک نے پائیدار ترقی، باہمی مفادات اور خطے میں استحکام کے لیے تعاون پر تبادلہ خیال کیا۔
شامی وزیر اطلاعات حمزہ المصطفیٰ کے مطابق، ان معاہدوں کے نتیجے میں 50 ہزار سے زائد ملازمتوں کے مواقع پیدا ہوں گے، جو لاکھوں شامی خاندانوں کے لیے روزگار، امید اور نئی زندگی کے دروازے کھولیں گے۔
عدرا شہر میں سعودی سرمایہ کاری سے سیمنٹ فیکٹری کا افتتاح بھی اسی دورے کا حصہ تھا، جو مستقبل کے متعدد ترقیاتی منصوبوں کے لیے بنیادی کڑی ثابت ہوگی۔
یہ اقدام محض معاشی سودے نہیں، بلکہ عرب یکجہتی کی عظیم بحالی کا اشارہ ہے۔ ایک ایسا لمحہ، جہاں ماضی کی راکھ سے دوستی کی روشنی جنم لیتی ہے۔ جب خواب بکھرتے ہیں، تو انہیں جوڑنے کے لیے دولت کے ساتھ دل، نیت اور جذبے کی ضرورت ہوتی ہےاور سعودی عرب نے دنیا کو وہ جذبہ دکھا دیا ہے۔
