سعودی عرب نے فرانسیسی صدر ایمانویل میکخواں کی جانب سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے اعلان کا پُرجوش خیرمقدم کرتے ہوئے اسے ایک "تاریخی فیصلہ” قرار دیا ہے۔ سعودی وزارت خارجہ کی جانب سے جمعہ کو جاری کردہ بیان میں اس فیصلے کو فلسطینی عوام کے حق خود ارادیت کی عالمی سطح پر تسلیم کرنے کا اہم قدم کہا گیا ہے۔
بیان میں کہا گیامملکت اس تاریخی فیصلے کو سراہتی ہے جو فلسطینی عوام کے حقوق، خودمختاری، اور 1967 کی سرحدوں پر مبنی آزاد ریاست فلسطین کے قیام کے لیے بین الاقوامی اتفاق رائے کی یاد دہانی ہے۔
سعودی عرب نے تمام ریاستوں پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی قراردادوں اور عالمی قانون کی پاسداری کو یقینی بنائیں، اور فلسطین کے دیرینہ مسئلے کے پرامن اور منصفانہ حل کی کوششوں میں سنجیدگی اختیار کریں۔
سعودی وزارت خارجہ نے ایک بار پھر اُن ممالک سے مطالبہ کیا ہے جنہوں نے اب تک فلسطینی ریاست کو تسلیم نہیں کیا، کہ وہ بھی آگے بڑھ کر اسی طرح کے اقدامات کریں اور عالمی امن میں اپنا مؤثر کردار ادا کریں۔
صدر ایمانویل میکخواں نے گزشتہ روز واضح کیا کہ مشرق وسطیٰ میں ایک منصفانہ اور دیرپا امن کے لیے، فرانس نے یہ تاریخی فیصلہ کیا ہے کہ وہ رواں سال ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا۔”
یہ اعلان عالمی سطح پر فلسطینیوں کے لیے بڑھتی ہوئی حمایت کی عکاسی کرتا ہے۔فلسطینی اتھارٹی کے نائب صدر حسین الشیخ نے فرانسیسی صدر کے اعلان کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے فلسطینی عوام کے لیے امید کی کرن قرار دیا اور فرانس کا شکریہ ادا کیا۔
اب تک 142 ممالک فلسطینی ریاست کو باضابطہ طور پر تسلیم کر چکے ہیں۔
اسرائیل اور امریکہ اس اقدام کی شدید مخالفت کرتے ہیں
سعودی عرب مسلسل ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کا حامی رہا ہے، اور ماضی میں بھی اپنے اس مؤقف پر ڈٹا رہا ہے
