سعودی عرب میں تربوز کی کاشت میں گزشتہ برسوں کے دوران غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، اور تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق اس کی سالانہ پیداوار چھ لاکھ دس ہزار ٹن سے بھی زیادہ ہو گئی ہے۔ یہ پھل گرمیوں کے موسم میں نہ صرف سب سے زیادہ پسند کیا جانے والا ہے بلکہ ہر عمر کے لوگ اسے بڑے شوق سے کھاتے ہیں۔
وزارت ماحولیات، زراعت اور پانی کی جانب سے جاری زرعی منصوبوں نے اس کامیابی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان منصوبوں کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ مملکت کو زرعی اجناس کی پیداوار میں خود کفیل بنایا جائے اور کسانوں کو معیاری پیداوار حاصل کرنے کے لیے جدید سہولتیں اور رہنمائی فراہم کی جائے۔
کاشتکاروں کی مدد کے لیے وزارت زراعت کی جانب سے وقتاً فوقتاً معلوماتی ورکشاپس اور سیمینارز منعقد کیے جاتے ہیں، جن میں انہیں جدید کاشتکاری کے طریقے اور بہتر پیداوار کے حوالے سے اہم رہنمائی فراہم کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ، وزارت کی خصوصی ٹیمیں کھیتوں میں جا کر فصل کی تیاری کا جائزہ لیتی ہیں اور کسانوں کو ہر مرحلے پر تعاون فراہم کرتی ہیں۔
مملکت میں اس وقت تربوز کی کئی اقسام کامیابی سے کاشت کی جا رہی ہیں جن میں چارلسٹن گرے، کلونڈائک آر 7، رائل سویٹ اور کرمسن راؤنڈ نمایاں ہیں۔ فصل تیار ہونے کے بعد اسے مارکیٹ میں پیش کرنے سے پہلے خصوصی نمائشوں کا بھی اہتمام کیا جاتا ہے تاکہ صارفین تک بہترین کوالٹی کا پھل پہنچ سکے۔
