سعودی عرب کے میوزیم کمیشن نے ایک خصوصی ورچوئل سیشن کا انعقاد کیا جس کا مقصد میوزیم کے شعبے میں حصولِ سند، ملازمت کے مواقع اور ثقافتی تاریخ کے تحفظ کے جدید طریقوں کو اجاگر کرنا تھا۔ یہ سیشن "اوپن ٹاک سیریز” کا حصہ تھا جس میں عالمی سطح کے ماہرین، سعودی عرب میں میوزیم کے شعبے کی ترقی، ثقافت اور میراث کے تحفظ کے حوالے سے اپنے تجربات اور خیالات کا تبادلہ کر رہے ہیں۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق، اس سیشن میں اس بات پر زور دیا گیا کہ میوزیم کے شعبے میں جدید ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹائزیشن کے رجحانات کا تیز رفتار اضافہ ہو رہا ہے، اور ان تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ قومی و بین الاقوامی سطح پر ہنر مند افراد کی ضرورت میں اضافہ ہو رہا ہے۔
سیشن میں مختلف موضوعات پر سیر حاصل بات چیت ہوئی، جن میں میوزیم میں ملازمت کے مواقع، تعلیمی ضروریات، کلیدی کردار، عملی استعداد اور ٹیکنالوجی کی نمائش پر تفصیل سے گفتگو کی گئی۔ الشرقی دھمالی، جو ‘عرب ریجنل الائنس آف دا انٹرنیشنل کونسل آف میوزیمز’ کے صدر ہیں، نے کہا کہ "تبدیلیاں میوزیم کے مہتمم کے کردار میں آرہی ہیں، اور اب اس کے لیے خاص قسم کی کلیکشن مینجمنٹ کے لیے ہنر کی ضرورت ہے تاکہ کمیونٹی کی توجہ حاصل کی جا سکے اور عوامی توقعات پر پورا اترا جا سکے۔”
ماہرین کا کہنا ہے کہ میوزیم کی ٹیموں کو بحرانی حالات کے لیے پیشہ ورانہ طور پر تیار رہنا ضروری ہے، کیونکہ عوامی توقعات اور سیکھنے کا رجحان بڑھ رہا ہے۔
ھالہ الصالح، جو ‘الدرعیۃ آرٹ فیوچرز’ کی سپیشلسٹ ہیں، نے کہا میوزیم کے آپریشنز اور عوامی رابطوں میں ڈیجیٹل تبدیلی کا اثر بڑھتا جا رہا ہے، جس سے ٹیکنالوجی میں ماہر ہنر مند افراد کی طلب میں اضافہ ہوا ہے۔” انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ میوزیم کا شعبہ تیزی سے بدل رہا ہے اور اس میں کریئر کے لیے نئے دروازے کھل رہے ہیں۔
ماریہ عالم، جو ‘آرٹ جمیل’ میں سابق ڈائریکٹر رہ چکی ہیں، نے کہا میوزیم میں کیریئر کے بارے میں واضح ترغیب اور مسلسل سیکھنے کا موقع ہے۔ یہاں لوگ اپنی خواہشات اور شوق کے مطابق ثقافتی اشیاء جمع کر سکتے ہیں اور تعلیمی آپشنز کے ساتھ سپیشلائزڈ راستوں کا انتخاب کر سکتے ہیں۔
کیریئر کے نئے امکانات اور شعبے میں مسلسل سیکھنے کا موقع میوزیم کے شعبے کو ایک دلکش اور پرکشش انتخاب بناتا ہے
