سعودی وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان نے ریاض میں شامی وزیر توانائی انجینیئر محمد البشیر سے اہم ملاقات کی۔ اس ملاقات کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان توانائی کے شعبے میں مزید تعاون کے امکانات پر تبادلہ خیال کرنا تھا۔ سعودی عرب اور شام کے وزرا نے پٹرولیم، قابل تجدید توانائی، بجلی کی فراہمی اور دیگر توانائی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے طریقوں پر مفصل گفتگو کی۔
بعد ازاں، دونوں وزرا نے توانائی کے شعبے میں تعاون کے لیے ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے، جس کے تحت قابل تجدید توانائی، ریجنل الیکٹریکل انٹر کنکشن، تیل و گیس، پیٹرو کیمیکل اور دیگر اہم شعبوں میں تعاون بڑھانے کی کوششیں کی جائیں گی۔ اس فیصلے سے نہ صرف سعودی عرب اور شام کے روابط مستحکم ہوں گے، بلکہ دونوں ممالک کے توانائی کے شعبے میں مزید پیشرفت کی راہ بھی ہموار ہو گی۔
اس ملاقات سے قبل، سعودی عرب نے دمشق میں سعودی شامی سرمایہ کاری فورم کے دوران شام کے ساتھ 6.4 ارب ڈالر کے سرمایہ کاری معاہدوں پر دستخط کیے۔ یہ معاہدے جنگ سے تباہ حال شام کی تعمیر نو میں سعودی عرب کے اہم کردار کو اجاگر کرتے ہیں۔ سعودی عرب کی جانب سے بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو شام میں توانائی، صنعت اور دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری کی ترغیب بھی دی جائے گی۔
سعودی ولی عہد کی ہدایات کے تحت سعودی شامی بزنس کونسل فوراً قائم کی گئی ہے جس کی سربراہی اکوا پاور کمپنی کےسی ای او محمد عبداللہ ابونیان کریں گے۔ اس کونسل کے ایگزیکٹو ممبران میں نمایاں سعودی سرمایہ کار اور تاجر شامل ہیں، جو شام میں تعمیر نو اور اقتصادی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں گے۔
