سعودی عرب کا میڈیا سیکٹر تیزی سے ایک پائیدار اور منافع بخش سرمایہ کاری کے میدان میں تبدیل ہو رہا ہے، جس میں مقامی اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے لیے بے شمار مواقع دستیاب ہیں۔ سعودی وزارتِ اطلاعات کے جاری کردہ تازہ اعداد و شمار کے مطابق، سعودی شہری دنیا بھر میں سب سے زیادہ وقت ٹیلی ویژن پر گزارتے ہیں، جو کہ روزانہ اوسطاً 5.1 گھنٹے ہے۔ اس کے علاوہ، سعودی باشندے روزانہ کی بنیاد پر پوڈکاسٹ بھی سنتے ہیں، جس کا تناسب 67 فیصد ہے۔
سعودی عرب کی میڈیا مارکیٹ نہ صرف ٹیلی ویژن بلکہ ڈیجیٹل مواد کے میدان میں بھی بڑی ترقی دیکھ رہی ہے۔ سعودی عرب میں 52 ملین صارفین مختلف مقامی ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر تیار کردہ مواد سے جڑے ہوئے ہیں۔ یہ بڑی تعداد سعودی میڈیا مارکیٹ کی طاقتور نمو کی نشاندہی کرتی ہے، جس میں مستقبل میں اور بھی سرمایہ کاری کی توقع کی جا رہی ہے۔
وزارتِ اطلاعات نے اعلان کیا ہے کہ 100 ملین امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری انفراسٹرکچر اور مواد کی تیاری کے منصوبوں میں کی جائے گی، جس سے سعودی میڈیا سیکٹر کی پائیداری مزید مستحکم ہوگی۔ 2027 تک سعودی عرب کے ویژول میڈیا، اشتہارات اور آڈیو میڈیا کے شعبوں میں قابلِ ذکر مالی ترقی متوقع ہے۔ اس میں ویژول میڈیا میں 15 ارب ریال، اشتہارات میں 10.9 ارب ریال اور آڈیو میڈیا میں 1.1 ارب ریال کی ترقی شامل ہے۔
سعودی عرب کے میڈیا کے شعبے میں 5G ٹیکنالوجی کا انقلاب آنے والا ہے، جو 2030 تک مقامی معیشت میں 68 ارب ریال کا اضافہ کر سکتا ہے۔ اس سے میڈیا کے تمام ذیلی شعبوں میں مزید ترقی کی توقع ہے، اور سعودی عرب دنیا کے نئے میڈیا حب کے طور پر ابھر کر سامنے آ سکتا ہے۔
وزیرِ اطلاعات سلمان الدوسری نے اس بات کا عہد کیا ہے کہ سعودی عرب ایک مضبوط اور متوازن ریگولیٹری فریم ورک فراہم کرے گا، جو مقامی و بین الاقوامی کمپنیوں اور سرمایہ کاروں کو سعودی میڈیا سیکٹر سے بھرپور فائدہ اٹھانے کا موقع دے گا۔ سعودی عرب کا میڈیا نہ صرف معلومات کی ترسیل کا ذریعہ بن چکا ہے بلکہ یہ ملک کی معیشت کے ایک اہم حصے کے طور پر ابھر رہا ہے۔
