سعودی عرب کے شہر باحہ میں جاری آٹھویں الاطاولہ ورثہ فیسٹول کے دوران ایک خصوصی تقریب کا اہتمام کیا گیا جس میں ماضی میں خواتین کے روایتی کردار اور خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔
اس تقریب کا مقصد نہ صرف خواتین کی محنت، ہنر اور معاشرتی کردار کو اجاگر کرنا تھا بلکہ نئی نسل کو ماضی کی دیہی زندگی سے روشناس کروانا بھی تھا۔ تقریب میں خواتین کے مختلف روایتی کاموں جیسے کھانا پکانا، اون کاتنا، ٹوکری اور چٹائی بنانا اور ایندھن کے لیے لکڑیاں جمع کرنے جیسے کاموں کو لائیو شوز کی شکل میں پیش کیا گیا۔
خاص طور پر کم عمر لڑکیوں نے پرجوش انداز میں ان روایتی سرگرمیوں کی عملی نقل کر کے زائرین کو دیہی زندگی کا حقیقت سے قریب تر تجربہ فراہم کیا، جس نے بچوں اور نوجوانوں کو بہت متاثر کیا اور انہوں نے ان یادگار مناظر کو اپنے موبائل فونز میں محفوظ کر لیا۔
یہ تقریب فیسٹول کے اُس وسیع تر وژن کا حصہ ہے جس کا مقصد قومی ثقافتی ورثے کو محفوظ رکھنا، قومی شناخت کو مضبوط بنانا اور معاشرے کو اپنی جڑوں سے جوڑے رکھنا ہے۔
فیسٹول میں مزید ثقافتی سرگرمیاں بھی شامل ہیں، جن میں مقامی خاندانوں کے روایتی سٹالز، قدیم طرز تعمیر کے لائیو مظاہرے، زراعت اور فصل کی کٹائی کے طریقوں کی جھلکیاں، ویژوئل آرٹس، مشاعرے، ثقافتی مقابلے اور سٹیج پر روایتی لوک فنون کی نمائش شامل ہے۔
الاطاولہ ورثہ فیسٹول ایک ایسا رنگا رنگ ثقافتی میلہ بن چکا ہے جو نہ صرف تفریح فراہم کرتا ہے بلکہ ماضی، حال اور مستقبل کے درمیان ایک خوبصورت تعلق بھی قائم کرتا ہے۔
